پیر 06 جولائی 2020

زرداری کے وارنٹ، نواز شریف کی بذریعہ اشتہار طلبی کے احکامات

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد اصغر علی نے سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس پر سماعت کی ۔

نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت میں بتایا کہ اس کیس میں 3 ملزمان ہیں، عدالت نے نواز شریف کے نام کےوارنٹ جاری کیے ہیں، اس موقع پر نیب نے نوازشریف کو سمن برطانیہ بھجوانے کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ نواز شریف برطانیہ میں موجود ہیں دفتر خارجہ کے ذریعے وارنٹ بھیجے ہیں۔

ریفرنس کی سماعت کے دوران آصف زرداری کی جانب سے ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ میں عدالت میں موجود ہوں اورآصف زرداری کی استثنیٰ کی درخواست دائر کررکھی ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ کورونا کے دن ہیں، آصف زرداری کی عمربھی زیادہ ہے،جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آصف زرداری کوکورونا تونہیں ہے؟

ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ آصف زرداری کے آنے سے لوگ اکٹھے ہونگے، پھر رش ہوگا،میں یہاں عدالت میں موجود ہوں۔

اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ فاروق ایچ نائیک کہہ رہے ہیں کہ آصف زرداری کے پیش ہونے سے رش ہو جائے گا، اگررش ہوجائے گا تو اسے کنٹرول کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔

سردار مظفر عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ کی جائے اور ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے جائیں، یوسف رضا گیلانی کو عدالت نے استثنا دیا تو آج ان کا وکیل بھی پیش نہیں ہوا، ان کا استثنا بھی ختم کیا جانا چاہیے۔

فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی پیشی کے بعد کورونا وائرس کا شکار ہو گئے تھے، میں بھی ان کے ساتھ تھا میں بھی آئیسولیشن میں چلا گیا، اگر عدالت کہتی ہے تو میں عدالت میں یوسف رضا گیلانی کی طرف سے بیان حلفی دے دیتا ہوں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف علی زرداری کو ہائیکورٹ نے میڈیکل گراؤنڈز پر ضمانت دی تھی، ان پر کیسز پہلی بار نہیں بنائے گئے، 20 سال سے تو آصف زرداری کے خلاف کیسزبنتے میں دیکھ رہا ہوں۔

جج اصغر علی کے کہا کہ ریفرنس میں نواز شریف کی عدم پیشی پر اشتہار جاری کر رہے ہیں،آصف علی زرداری کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیتے ہیں۔

اس موقع پر احتساب عدالت کے جج نے آصف زرداری کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر تے ہوئے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے اور ریمارکس دیئے کہ کرمنل کیس ہے آصف زرداری کو پیش تو ہونا پڑے گا۔

ان کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ وارنٹس تو تب جاری کیے جائیں جب آصف زرداری پیش نہ ہوں، ان کا کہنا تھا کہ میں سینئر وکیل ہوں اور عدالت میں بیان دے رہا ہوں کہ آصف زرداری آئندہ سماعت پر پیش ہونگے۔

جج اصغر علی نے کہا کہ میں لمبی تاریخ دے دیتا ہوں پھرآصف زرداری عدالت میں پیش ہوجائیں، جس کے بعد احتساب عدالت نے نوازشریف کو اشتہاری قراردینے کی کارروائی شروع کردی۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کے بذریعہ اشتہار طلبی کے احکامات جاری کردیے اور کہا کہ نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہ ہو سکا، وہ دانستہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بن رہے ہیں۔