منگل 16 جولائی 2024

کورونا: ڈیلٹا کے خلاف ویکسینز زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں، تحقیقی رپورٹ

نیویارک(دھرتی نیوز انٹرنیشنل ڈیسک)عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کی بھارتی قسم ڈیلٹا کے خلاف اب تک موجود ویکسینز کچھ زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔ اس بات کا انکشاف مایو کلینک کی جانب سے کی جانے والی نئی تحقیق میں کیا گیا ہے۔

 برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق کورونا کی بھارتی قسم کے خلاف فائزر کی بائیو ٹیک ویکسین صرف 42 فیصد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے جب کہ موڈرنا ویکسین کی افادیت 76 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

امریکہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے عالمی وبا کورونا سے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ تر فائزر ویکسین کی خوراکیں لگوائی ہے۔ امریکہ میں کورونا کی بھارتی قسم ڈیلٹا کے پھیلنے سے زیادہ تر لوگوں میں اس لحاظ سے تشویش پائی جاتی ہے کہ کون سی ویکسین انہیں بہتر طریقے سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے؟

تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس وقت بڑے پیمانے پر امریکہ میں اس بات پر بحث و مباحثہ بھی جاری ہے کہ کیا کورونا ویکسینز کی تیسری خوراک لگوانے والے آئندہ مستقبل میں عالمی وبا سے زیادہ تر محفوظ رہ سکیں گے؟ اور ان میں وہ قوت مدافعت پیدا ہو جائے گی جو انہیں کورونا کی تمام اقسام سے یقینی تحفظ فراہم کرسکے گی؟

اخبار کے مطابق منظر عام پر آنے والی رپورٹ حتمی نہیں ہے البتہ تحقیق کے لیے 25 ہزارافراد پر جنوری سے جولائی کے دوران ریسرچ کی گئی اور ان کا ڈیٹا اکھٹا کرکے نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔

کووڈ -19 سے تحفظ کے لیے تیار کی جانے والی ویکسینز کے متعلق عمومی طور پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ وہ 90 فیصد تک مؤثر ہیں لیکن عملاً لگوائی جانے والی ویکسینز ابتدائی چھ ماہ تک بھرپور طریقے سے مؤثر رہیں مگر اس کے بعد ان کی افادیت میں بتدریج کمی واقع ہوئی۔

عالمی وبا کورونا کی ڈیلٹا قسم امریکہ میں مئی تک صرف 0.7 فیصد تک محدود تھی لیکن جولائی وہ 70 فیصد تک ریکارڈ کی جا چکی تھی۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسی دوران کورونا کی ایلفا قسم جو امریکہ میں 85 تک ریکارڈ کی جا چکی تھی وہ گر کر صرف 13 فیصد پہ پہنچ گئی تھی۔

اخبار کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح ویکسین نہ لگوانے والے افراد ڈیلٹا قسم سے متاثر ہو رہے ہیں بالکل اسی طرح عالمی وبا کی بھارتی قسم نے ان افراد کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتی ہے جو پہلے سے ویکسین لگواچکے ہیں یعنی ویکسینیشن کروانے کے باوجود بھی لوگ ڈیلٹا قسم کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ڈیلٹا قسم میں یہ صلاحیت بھی ریکارڈ کی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلیاں لا کر ویکسین کو بائی پاس کرتا ہے جس کے نتیجے میں ویکسین لگوانے والے افراد متاثر ہوتے ہیں۔

فائزر نے گزشتہ ماہ اپنی ویکیسن کے حوالے سے ایک ڈیٹا بھی شیئر کیا تھا جس میں تسلیم کیا گیا تھا کہ اس کی ویکسین کی افادیت چھ ماہ بعد کم ہو کر 86 فیصد تک رہ گئی تھی۔

Facebook Comments