جمعرات 21 اکتوبر 2021

زمین کے مدار میں سیٹلائٹس بھیجنے کا عام لوگوں کو کیا نقصان ہے؟ ماہرین نے خبردار کردیا

اوٹاوا(دھرتی نیوز انٹرنیشنل ڈیسک) سپیس ایکس اور ایمازون جیسی کمپنیاں اور حکومتیں سالوں سے سیٹلائٹس زمین کے مدار میں بھیج رہی ہیں، جن کی تعداد ہزاروں میں ہو چکی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ اب کینیڈین ماہرین نے زمین کے مدار میں سیٹلائٹس کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تحقیقاتی کام میں رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔

دی سن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ عام لوگ بھی چند سال پہلے تک آسمان میں ستاروں کی کہکشائیں دیکھ سکتے تھے، اب ان کہکشاﺅں کو دیکھنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ستاروں سے زیادہ ہمیں انسانوں ہی کی بھیجی ہوئی سیٹلائٹس رات کے وقت نظر آتی ہیں۔

 کینیڈا کی یونیورسٹی آف ریجینا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس قدر تیزی سے مدار میں سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، بہت جلد ایسا وقت آئے گا جب ہمارے لیے زمین سے ستاروں کی کہکشاﺅں کو دیکھنا لگ بھگ ناممکن ہو جائے گا۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ یونیورسٹی آف ریجینا کی ماہر فلکیات سمانتھا لالر کا کہنا تھا کہ ”ہم نے مدار میں موجود سیٹلائٹس کی ایک سمیولیشن بنائی ہے۔ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھی سے رات کے وقت آسمان پر سیٹلائٹس اتنی زیادہ تعداد میں روشن ہوتی ہیں کہ ستاروں پر حاوی آ رہی ہوتی ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ آئندہ چند سالوں میں مدار میں سیٹلائٹس کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ ماہرین فلکیات کے لیے تحقیق کی غرض سے کہکشاﺅں کو دیکھنا ناممکن ہو جائے گا۔“

Facebook Comments