منگل 28 جون 2022

’اومیکرون‘ سے متعلق نئی اہم تحقیق سامنے آگئی

’اومیکرون‘ کا مرکز سمجھے جانے والے ملک جنوبی افریقی ماہرین کی کورونا کی نئی قسم اور ویکسینیشن پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فائزر ویکسین کے دو ڈوز ’اومیکرون‘ سے صرف 33 فیصد محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق ساؤتھ افریقن میڈیکل ریسرچ کونسل اور ایک انشورنس کمپنی کی جانب سے ’اومیکرون‘ اور ’ویکسینیشن‘ پر کی گئی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب افراد نے فائزر ویکسین کی دو خوراکیں لے رکھی ہیں، ان کے ’اومیکرون‘ میں مبتلا ہونے کے بعد ہسپتال داخل ہونے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

ماہرین نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 11 ہزار کورونا متاثرین افراد کے ڈیٹا اور ان کی جانب سے لگوائی گئی ویکسینز کا ریکارڈ چیک کیا۔

تحقیق کے دوران ماہرین نے 15 نومبر سے 7 دسمبر تک کورونا کا شکار ہونے والے 78 ہزار بالغ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ بھی لیا، جن سے متعلق خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ان میں ممکنہ طور پر ’اومیکرون‘ کا انفیکشن بھی ہوگا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جب افراد نے فائزر کی دو خوراکیں لے رکھی تھیں، ان میں ’اومیکرون‘ کی شدت کم دکھائی دی اور دو خوراکیں لینے والے افراد کو ہسپتال داخل کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر نتائج سے معلوم ہوا کہ فائزر کی دو ویکسینز لینے والے افراد ’اومیکرون‘ سے 33 فیصد محفوظ رہتے ہیں، تاہم اگر ویکسنیشن والے کسی بھی شخص کو ’اومیکرون‘ ہوجائے تو اسے ہسپتال داخل کرنے کی نوبت نہیں آتی۔

ساتھ ہی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوبی افریقہ میں اب تک ’اومیکرون‘ کے محض 550 تصدیقی کیسز سامنے آئے ہیں اور نئی قسم کے سامنے آنے کی رفتار ’ڈیلٹا‘ سے بھی کم ہے۔

اس سے قبل بھی جنوبی افریقی ماہرین نے کہا تھا کہ ’اومیکرون‘ قسم کے اب تک کے ڈیٹا اور نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ نئی قسم مریض کو زیادہ بیمار نہیں بناتی۔

جنوبی افریقی ماہرین سے قبل گزشتہ ہفتے برطانوی ماہرین نے ایک تحقیق کے نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کورونا سے تحفظ کی تین ویکسینز لگوانے والے افراد میں ’اومیکرون‘ کی شدت کم ہوتی ہے۔

کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ 25 یا 26 نومبر کو جنوبی افریقہ میں پائی گئی تھی مگر اب تک وہاں بھی اس کے صرف 600 تک ہی مریض سامنے آئی ہیں۔

’اومیکرون‘ اگرچہ دنیا کے پانچ درجن سے زائد ممالک تک پھیل چکا ہے مگر اس کے پھیلنے کی رفتار اندازوں سے کم دیکھی جا رہی ہے اور اب تک اس سے اموات بھی بہت ہی کم ریکارڈ ہوئی ہیں۔

Facebook Comments