ھفتہ 22 جنوری 2022

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی زیرصدارت ڈی پی او آفس کے کمیٹی روم میں ضلع بھر کے پولیس افسران کیساتھ کرائم میٹنگ کا انعقاد۔۔۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی زیرصدارت ڈی پی او آفس کے کمیٹی روم میں ضلع بھر کے پولیس افسران کیساتھ کرائم میٹنگ کا انعقاد۔۔۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی زیرصدارت ڈی پی او آفس کے کمیٹی روم میں ضلع بھر کے پولیس افسران کیساتھ کرائم میٹنگ کا انعقاد۔ 

خانیوال (سعید احمد بھٹی) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی زیرصدارت ڈی پی او آفس کے کمیٹی روم میں ضلع بھر کے پولیس افسران کیساتھ کرائم میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں ایس پی انوسٹی گیشن حافظ عطاء الرحمان‘ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز سمیت دیگر پولیس افسران نے شرکت کی۔ کرائم میٹنگ میں پولیس افسران کی کارکردگی سمیت مجرمان اشتہاری کی گرفتاری‘ زیر تفتیش مقدمات کی یکسوئی اورپینڈنگ درخواستوں کے متعلق سرکل وائز تمام تھانہ جات کا جائزہ لیا گیا جس میں بہترین کارگردگی کا مظاہرہ کرنے پر افسران کو شاباش اور ناقص کارگردگی کا مظاہرہ کرنے پر افسران کی سرزنش بھی کی گئی۔ ڈی پی او نے کہا کہ کسی بھی جرم کی اطلاع پر ایس ایچ او فوری طور پر موقعہ پر پہنچیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست دہندہ یا بذریعہ 15 شکایت کنندہ کو تھانوں کے دھکے نہ کھانے پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ایس ڈی پی اوز تھانوں کے اچانک دورے کریں اور حالات و واقعات کا خود جائزہ لیں فرائض میں کسی بھی قسم کی غفلت لاپرواہی برتنے والے افسران کے خلاف فوری کاروائی کریں جبکہ تھانوں میں ٹاؤٹ مافیا کی بھی جانچ پڑتال کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود بھی تھانوں کے اچانک وزٹ کروں گا ریکارڈ عدم تکمیل کی صورت میں متعلقہ آفیسر ذمہ دار ہوگا لہذا تھانہ جات میں ریکارڈ کی تکمیل اور افسران کی حاضری کو یقینی بنائیں غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ زیر تفتیش مقدمات کو جلد از جلد یکسو کر کے مجاذ عدالتوں کو بھجوائیں۔ ڈی پی او نے ایس ایچ اوز کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے علاقوں میں جرائم کی شرح میں کمی لانے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائیں اور چوری‘ ڈکیتی‘ سرقہ بالجبر‘ قتل‘ اقدام قتل‘ راہزنی‘ رابری‘ سٹریٹ کرائم کی روک تھام او سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے موثر اقدامات کریں اور مجرمان اشتہاریو ں کے خلاف زیر دفعہ 88 ض ف کی کاروائیاں زیادہ سے زیادہ عمل میں لائیں۔

Facebook Comments




0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x