منگل 27 اکتوبر 2020

ترکی نے پاکستان کیلئے جدید جنگی جہاز تعمیر کرنا شروع کردیے

ترکی نے پاکستان کیلئے جدید جنگی جہاز تعمیر کرنا شروع کردیے

کراچی: پاکستان میں ترکی کے تعاون سے پاک بحریہ کے لیے جدید بحری جنگی جہازوں 'میلجم' اے ڈی اے کلاس کی تیاری کا سنگ بنیاد کراچی میں رکھ دیا گیا۔

ترک نیوز ایجنسی 'انادولو' کی رپورٹ کے مطابق سنگ بنیاد کی تقریب کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس (کے ایس ای ڈبلیو) میں منعقد ہوئی جس میں پاک بحریہ اور ترکی کی سرکاری دفاعی کمپنی اے ایس ایف اے ٹی کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

سنگ بنیاد کی تقریب میں کے ایس ای ڈبلیو کے منیجنگ ڈائریکٹر ریئر ایڈمر اطہر سلیم مہمان خصوصی تھے۔

واضح رہے کہ جولائی 2018 میں پاکستان نیوی نے اے ایس ایف اے ٹی کے ساتھ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت وہ 4 میلجم کلاس کارویٹسحاصل کرے گا۔

معاہدے کے تحت 2 ملیجم کلاس کارویٹس ترکی میں جبکہ باقی 2پاکستان میں تیار ہوں گے۔

مذکورہ معاہدے کی رو سے ملیجم کلاس کارویٹس کی ٹیکنالوجی بھی پاکستان میں منتقل ہوگی۔

خیال رہے کہ میلجم کلاس کارویٹس کے سنگ بنیاد کی پہلی تقریب گزشتہ ہفتے استنبول کے نیول شپ یارڈ میں منعقد ہوئی تھی۔

ملیجم بحری جہاز 99 میڑ طویل اور 24 سو ڈسپلیسمنٹ کیپیسٹی کی صلاحیت رکھتا جبکہ 29 ناٹیکل مائل کی رفتار سے چل سکتا ہے۔

ملیجم اینٹی سب میرین جنگی فریگیٹس میں ریڈار سے پوشیدہ رہنے کی صلاحیت ہے جو پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ کردے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملیجم کلاس کارویٹس جدید خطوط پر دفاع ساز و سامان سے لیس ہے جس میں طیارہ شکن ہتھیار، سینسرز، جنگی نظم و نسق کا نظام بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ جنگی بحری جہاز پاک بحریہ کے جدید ترین پلیٹ فارم میں شامل ہوگا جو بحر ہند کے خطے میں امن، استحکام اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں نمایاں کردار ادا کرے گا‘۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل منیجر شپ بلڈنگ کموڈور محمد جہانزیب احسن نے مقامی سطح پر جنگی جہاز کی تعمیر اور دیگر دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے ترکی اور پاکستان کے مابین گہری دوستی کی تاکید کی۔

اکتوبر 2019 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاک بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کےہمراہ استنبول میں ایک تقریب کے دوران پہلی ملیجم کلاس کارویٹس کی پہلی دھاتی پلیٹ کاٹ کر سنگ بنیاد رکھی۔

واضح رہے کہ ترکی دنیا کے ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو جنگی جہاز کی تیاری میں مقامی وسائل بروئے کار لاتا ہے۔

یاد رہے دونوں ممالک میں دفاعی صنعت، فوڈ پراسیسنگ اور پیکنگ، آٹوموٹو انڈسٹری اور آٹوپارٹس، گھریلو آلات، تعمیراتی سامان، ٹیکسٹائل، چمڑے کی مشینری اور تیار مصنوعات، کھیلوں کا سامان اور جراحی آلات میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔