ھفتہ 11 جولائی 2020

کورونا کے مریضوں کی سونگھنےکی صلاحیت کیوں متاثر ہوتی ہے؟

اب سائنسدانوں نے تحقیق سے یہ بات بتائی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی سب سے بنیادی وجہ وائرل انفیکشن ہوتی ہے جن میں  مثال کے طور پر عام نزلا یا سانس کی نالی سے متعلق انفیکشنز شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ وائرس کی علامات ختم ہوجانے کے بعد انسان کی سونگھنے کی حس بھی واپس آجاتی ہے اور یہ سونگھنے کی صلاحیت ناک بند ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔

فوٹو: بشکریہ سی ایس بی نیوز

لیکن اگر کووڈ-19 کی بات کی جائے تو سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے بہت سے مریضوں کی سونگھنے کی صلاحیت اچانک متاثر ہوئی اور وہ ایک یا دو ہفتے کے دورانیے میں واپس ٹھیک ہوگئی۔

وائرس سے متاثرہ بہت سے مریضوں کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کی ناک بند نہیں تھی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کورونا کے مریضوں میں سونگھنے کی صلاحیت ناک بند ہونے کی وجہ سے متاثر نہیں ہوتی۔

سائنسدانوں نے کہا کہ اچانک سونگھنے کی حس واپس آنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی سونگھنے کی حس متاثر ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اروما مالیکیولز یعنی (خوشبو کے ذرات) ناک میں موجود ریسپٹرز تک نہیں پہنچ پاتے۔

ماہرین نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا سی ٹی اسکین لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ متاثرہ مریض کی ناک میں موجود وہ حصہ جو سونگھنے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے 'اولفیکٹری کلیفٹ' کہتے ہیں وہ میوکس اور وہاں موجود نرم پٹھوں میں سوجن کی وجہ سےبلاک یعنی بند ہے۔

اس کنڈیشن کو سائنسی اصلاح میں 'کلیفٹ سینڈروم' کہا جاتا ہے اور سی ٹی اسکین میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متاثرہ شخص کی ناک بالکل صاف ہے جس کی وجہ سے اسے ناک کے ذریعے سانس لینے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں ہوتا۔