ھفتہ 11 جولائی 2020

فوٹو گرافی: سائنسی تجربات کے دوران کیا کچھ ہوا!

1727 میں جرمن سائنس داں ڈاکٹر ہرمیان اسکولرس ایک روز سلور نائٹریٹ میں کھڑیا ملا رہے تھے۔ اس مرکب میں کھڑکی کے ذریعہ سورج کی شعاعیں پڑ رہی تھیں جس سے وہ مرکب آہستہ آہستہ سیاہ ہوتا جارہا تھا۔

اس کی بدلتی ہوئی رنگت دیکھ کر ڈاکٹر اسکولرس نے اس پر یہ تجربہ کرنا شروع کیا کہ وہ بار بار مرکب کو سورج کی روشنی کے سامنے رکھنے لگے۔ آخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سلور نائٹریٹ اور کھڑیا مٹی کے مرکب پر سورج کی روشنی کا سیدھا اثر پڑتا ہے۔

کہتے ہیں اس وقت لندن کے ایک سائنس داں لوئی بھی غالبا اسی موضوع پر تحقیق کررہے تھے، لیکن 1781 میں ان تجربات کے تمام کاغذات اور ان کا فارمولا آسٹریلیا کے ایک سائنس داں جوزف ویزوپ کے ہاتھ آگیا۔

اس موقع پر ان کے معاون چیس ہیوم نے ان کے سامنے فوٹو گرافی کے عمل پر تحقیق کرنے کی تجویز پیش کی۔

ڈاکٹر ویزوپ کے لڑکے تھامس کو جب اپنے والد کی تحقیق کا علم ہوا تو وہ انھی کے فارمولے کی بنا پر کیمرے کی ایجاد میں مصروف ہوگئے۔

مسلسل کوشش کے بعد تھامس نے 1799 میں ہوائیاں نامی مرکب ایجاد کیا۔ آج کل تصویروں کو پائیدار اور مستقل بنانے کے لیے اسی کو کام میں لایا جاتا ہے۔

لگاتار تجربے کرتے رہنے اور کڑی محنت کے باعث تھامس کی صحت گرنے لگی اور 1805 میں صرف 35 سال کی عمر میں یہ عظیم سائنس داں راہیِ ملکِ عدم ہوا۔

(پریم پال اشک کی کتاب فلم شناسی سے ایک ورق)