ھفتہ 11 جولائی 2020

صحتیابی کے بعد بھی کورونا وائرس پھیپھڑوں میں رہنے کا انکشاف

نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 نظام تنفس کو متاثر کرتی ہے جس کے دوران اکثر مریضوں کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات کے ساتھ بخار کا سامنا ہوتا ہے۔

یعنی اس سے پھیپھڑے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کووڈ 19 سے صحتیاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑوں کی گہرائی میں یہ وائرس موجود ہوسکتا ہے۔

جریدے جرنل سیل ریسرچ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر اسی وجہ سے کچھ مریضوں میں صحتیابی کے بعد اس وائرس کی دوبارہ تشخیص ہوتی ہے۔

چین کی آرمی میڈیکل یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ اس سے پہلی بار پھیپھڑوں میں اس وائرس کے ذرات موجود رہنے کے شواہد ملتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے مریض میں، جس کے 3 مسلسل ٹیسٹ نیگیٹو آئے تھے۔

اس تحقیق کے نتائج ایک 78 سالہ مریضہ کے پوسٹمارٹم سے مرتب کیے گئے جو کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں اور ان کا علاج ہوا۔

علاج کے بعد وہ صحتیاب ہوگئیں اور 3 بار ٹیسٹوں میں نیگیٹو نتائج سامنے آئے تھے مگر ایک دن بعد اچانک حرکت قلب بند ہونے سے ان کی موت واقع ہوگئی۔

موت کے بعد پوسٹمارٹم میں اہم اعضا جیسے دل، جگر اور جلد پر وائرس کے آثار نہیں ملے مگر اس کی کچھ اقسام پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کی گئیں۔

یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا اور چین میں اس وائرس سے صحتیاب ہونے والے متعدد افراد کے دوبارہ ٹیسٹوں میں اس کی تصدیق ہوگئی تھی۔

درحقیقت کچھ افراد میں تو ابتدائی نیگیٹو ٹیسٹ کے 2 ماہ بعد وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

وائرس کے شکار افراد میں اس وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہونے پر کافی کام کیا جارہا ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لاک ڈاؤن کے بعد ممالک کو کھولنے کی کنجی ہے، تاہم عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایسے شواہد موجود نہیں کہ ایک بار وائرس کا شکار ہونے کے بعد متاثرہ فرد دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتا۔

اس چینی تحقیق میں شامل ٹم کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کے انفیکشن کے بارے میں فوری طور پر جاننے کی ضرورت ہے۔