ھفتہ 11 جولائی 2020

ایران نے صدر ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انٹرپول سے ان کی گرفتاری میں مدد کی درخواست کی ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا نے مقامی پراسیکیوٹر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کے الزام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ متعدد دیگر افراد کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں۔

ان وارنٹس سے صدر ٹرمپ کی گرفتاری کا کوئی خطرہ نہیں لیکن اس اقدام سے ایران اور امریکہ کے تعلقات میں مزید کشیدگی آ سکتی ہے۔

تہران کے مقامی پراسیکیوٹر علی القاسمیھر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ اور دیگر 30 افراد کو ایران نے رواں سال جنوری کی تین تاریخ کو بغداد میں جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کا ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ ان افراد کو قتل اور دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنا ہو گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عام طور پر انٹرپول کو اس طرح کی درخواست موصول ہونے کے بعد انٹرپول کی کمیٹی میں اس بات کا فیصلہ ہوتا ہے کہ اس کے ارکان ملکوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کیا جائے یا نہیں۔

البتہ اس بات کا امکان کم ہے کہ انٹرپول ایران کی درخواست منظور کرتے ہوئے کوئی نوٹس جاری کرے گا کیوں کہ انٹرپول کے قوائد میں درج ہے کہ وہ سیاسی طرز کے معاملات میں نوٹس جاری نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ قاسیم سلیمانی ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے جنہیں رواں سال امریکا نے عراق میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا تھا