جمعرات 06 اگست 2020

'ڈومیسٹک کنٹریکٹس میں کیٹیگریز کا مقصدکھلاڑیوں کو کارکردگی کے حساب سے معاوضے دینا ہے'

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کنٹریکٹس میں کیٹیگریز متعارف کرانے کا مقصد کھلاڑیوں کو ان کی پرفارمنس اور کارکردگی کے حساب سے معاوضے دینا ہے۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس ندیم خان نے میڈیا سے آن لائن گفتگو میں کہا کہ نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر میں 88 فیصد پلیئرز مستفید ہوئے ہیں ،ڈومیسٹک پلیئرز کی کیٹیگری کارکردگی اور سینارٹی کی بنیاد پر بنائی گئی ہیں۔

 ندیم خان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال جونیئر، سینیئر سب کی سیلری برابر تھی جو غلطی تھی کیوں کہ آف سیزن پلیئرز کے لیے  50 ہزار سیلیری ناکافی تھی، پی سی بی کی جانب سے گزشتہ برس ہر پلیئر کو 50 ہزار سیلری دی جارہی تھی لیکن اس بار مختلف کیٹگریز میں سیلریز کردی گئی ہیں، اے پلس کو ڈیڑھ لاکھ، اے کو 85 ہزار، بی کو 75ہزار، سی کو 65 ہزار سیلری دی جارہی  ہے جب کہ  ڈی کیٹیگری کے پلیئرز کو 40 ہزار ملیں گے۔ 

پی سی بی نے  ریڈ بال کرکٹ میں میچ فیس 75 ہزار سے 60 ہزار کردی ہے جس پر ندیم خان کا کہنا ہے کہ میچ فیس کم کرنے کے بعد میچز کی تعداد بڑھائی گئی ہیں، اس بار قومی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ ڈبل لیگ کی بنیاد پر ہوگا جس سے ہرٹیم کو پانچ اضافی میچز ملیں گے۔

 ندیم خان نے مزید کہا کہ کلب کرکٹ کے آئین میں کسی کو کرکٹ کھیلنے سے نہیں روکا لیکن بعض درجہ بندی کردی ہیں کلبوں کی، ووٹنگ رائٹس اس کلب کے ہی ہوں گے جو مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں تاکہ فیصلہ سازی میں وہی لوگ آگے آئیں جو گراس روٹ پر اپنا کلب ٹھیک طرح چلاسکتے ہیں، اس سے معاملات درست سمت میں جائیں گے جبکہ نچلی سطح پر سیاست سے بھی بچا جاسکے گا۔