بدہ 05 اگست 2020

بھارت میں بنائے گئے وینٹی لیٹرز فیل ہوگئے

بھارت میں مقامی طور پر بنائے گئے وینٹی لیٹرز فیل ہوگئے ہیں اور اسپتالوں نے انہیں ناقابل استعمال قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

بھارتی اخبار ممبئی مِرر کے مطابق ممبئی کے معروف اسپتالوں سینٹ جارج اسپتال اور جمشید جی اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ بھارت میں مقامی طور  پر بنائے گئے یہ وینٹی لیٹرز مریضوں کو 100 فیصد آکسیجن فراہم نہیں کرپا رہے۔

مختلف این جی اوز کی جانب سے ممبئی کے دو بڑے معروف اسپتالوں کو گذشتہ ماہ ہی کورونا کے مریضوں کے لیے 81 وینٹی لیٹرز عطیہ کیے گئے جو کہ اب اسپتالوں نے واپس کردیے ہیں۔

ناقابل استعمال قرار دیے جانے والے یہ وینٹی لیٹرز نئی دہلی میں قائم ایک بھارتی کمپنی نے بنائے ہیں، بھارت میں بنائے گئے ایک وینٹی لیٹر کی قیمت ڈھائی لاکھ بھارتی روپے ہے اور کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کے سب سے سستے وینٹی لیٹرز ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک وینٹی لیٹر نے تو آن کرنے کے 5 منٹ بعد ہی کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس سے ان وینٹی لیٹرز کا معیار ظاہر ہوتا ہے، اس معاملے پر حکومت پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ خراب وینٹی لیٹرز کا معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کورونا وائرس سے شدید متاثرہ بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں پہلے ہی وینٹی لیٹرز کی شدید کمی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 لاکھ 85 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جب کہ 17 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے 7 ہزار کے قریب افراد مہاراشڑا میں ہلاک ہوئے ہیں۔