جمعرات 06 اگست 2020

مہنگی چینی خرید کر 50 کروڑ کا ڈاکا ڈالا گيا، شاہد خاقان عباسی

شاہد خاقان عباسی نے احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چینی کا مسئلہ ختم ہونے والا نہیں ہے، چینی آج بھی 85 روپے میں فروخت ہو رہی ہے لیکن حکومت کو پرواہ نہیں ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ چینی مہنگی کیوں ہوئی اور اس کا ذمے دار کون ہے اس کا جواب چینی انکوائری کمیشن بھی نہ دے پایا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے کرپشن کے اتنے باب ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جلد جانے والی ہے، یہ جب جائیں گے تو حقیقت معلوم ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی نے مطالبہ کیا کہ چینی کی قیمت کو دوبارہ 55 روپے پر لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 کروڑ روپے کا ڈاکا بھی پڑگیا، یوٹیلیٹی اسٹور میں آج بھی چینی کی قلت ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 45 ارب روپے کی سبسڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کو دی گئی اس کا جواب بھی دیا جائے۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ تین سال کے بچے کے سامنے اس کے نانا کو بھارتی فوج نے شہید کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس بچے کی تصویر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کشمیر کی صورتحال پر صرف تقریریں کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکی۔

لیگی رہنما نے کہا کہ وفاقی حکومت سے کہا گیا تھا کہ اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا جائے، بھارت کو سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونے میں بھی کلین چٹ دی گئی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہر روز ننھے بچوں کے سامنے ان کے والدین کو شہید کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے معاملے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے۔

حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت میں نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔

گلگت بلتستان سے متعلق بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ جی بی میں آزاد، شفاف اور غیر جانبدار الیکشن کروائے جائیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) کی جاری اسکیموں پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ افسروں کے تبادلے کیے جارہے ہیں۔