جمعرات 06 اگست 2020

کے الیکٹرک کو اضافی گیس ملنے کے باوجود کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری

کراچی: صنعتوں کو 3  دن اور سی این جی سیکٹر کے لیے 2 دن گیس کی بندش کے باوجود بھی شہر میں لوڈشیڈنگ کم نہ ہو سکی۔

کراچی میں کے الیکٹرک کی جانب سے رات دن کا فرق کیے بغیر بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، بھاری بھرکم بل بھیج کر بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کرکے ہٹ دھرمی کی نئی تاریخ رقم کردی گئی ہے۔

گزشتہ روز نیپرا کی ویڈیو لنک پر عوامی سماعت میں کراچی کے شہریوں نے شکایات کے انبارلگا دیے اور  کہا نہ دن کا سکون ہے نہ رات کا چین، بھاری بل لیے جاتے ہیں، بجلی کیوں نہیں دی جاتی۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ ان کی ٹیم کراچی کا دورہ بھی کرے گی، عوامی سماعت سے حاصل ہونے والے حقائق کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔

دوسری جانب کے الیکٹرک کےچیف ایگزیکٹو آفیسرمونس علوی نے لوڈ شیڈنگ کی ذمہ داری پی ایس او پر ڈال ڈالتے ہوئے کہا کہ پاور پلانٹس کے لیے تیل فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

 وزیر پانی بجلی عمر ایوب کے بیان کے برعکس مونس علوی نے کہا کہ نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کے لیے ان کی درخواست پر غور نہیں کیا جاتا۔

عمر ایوب نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ کے الیکٹرک کو اضافی بجلی کی پیشکش کی لیکن ان کا سسٹم اضافی بجلی کا بوجھ سہارنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہے۔

ادھر جماعت اسلامی کی جانب سے کے الیکٹرک کے خلاف آج سے کراچی میں شاہراہ فیصل پر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ روز جماعت اسلامی کی جانب سے شہر کے 100 مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جب کہ تحریک انصاف اور  پی ایس پی کی جانب سے بھی مظاہرے ہوئے۔

پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے تجویز دی کہ کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کرکے ایک سے زائد بجلی کمپنیوں کو موقع دیا جائے۔