جمعرات 06 اگست 2020

پی سی بی میں جواب مسترد، سلیم ملک سامنے آگئے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جواب مسترد ہونے پر سابق کپتان سلیم ملک سامنے آگئے اور کہا کہ بورڈنے انہیں ای میل میں کہا کہ جواب میں غلطیاں ہیں درست کریں، میں تو ٹرانسکرپٹ کے دوسرے جواب کی تیاری کررہا تھا کہ یہ 2014ء کا معاملہ سامنے لے آئے۔

سابق کپتان سلیم ملک نے بتایا کہ وہ 2014ء نہیں بلکہ 2013ء کے آخر میں بورڈ کے پاس گئے تھے،ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف کرکٹ بورڈ مجھ سے جواب مانگ رہا ہے اور دوسری جانب نئی کہانی سامنے لے آئے ہیں۔

سلیم ملک نے کہا کہ پی سی بی کو ہر حال میں معاملہ خراب کرنے والوں کا پتا لگانا چاہئے، آئی سی سی کو بھجوانے کے لئے لکھوایا جانے والا لیٹر میرے خلاف استعمال کرنا مضحکہ خیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ نے جواب کسی چیز کا مانگا اور پریس ریلیز کوئی اور جاری کی گئی، بورڈ کو معاملہ حل کرنے کے ساتھ معاملات خراب کرنے والے لوگوں کو سامنے لانا چاہیے۔

سابق کپتان کاکہنا تھا کہ سبحان احمد اور تفضل رضوی نے کہا کہ ایک طریقہ ہے اس معاملے کو حل کرنے کےلئے لیٹر لکھا جائے، دونوں کاکہنا تھا کہ لیٹر آئی سی سی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لکھنا ہے۔

سلیم ملک نے بتایا کہ سبحان احمد اور تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ لیٹر لکھنے کے ایک دو ہفتے میں معاملہ ختم ہوجائے گا، جس پر میں نے ان سے کہا کہ یہ معاملہ اب ختم ہونا چاہئے۔

سابق کپتان نے کہا کہ میں نے ان دونوں کے کہنے پر ہی لیٹر پر دستخط کئے تھے۔

سلیم ملک کا کہنا ہے کہ میں 20 سال پاکستان کے لئے کھیلا ہوں اور کئی میچز پاکستان کو جتوائے ہیں۔