ھفتہ 08 اگست 2020

قربانی،امداد اور کالی بھیڑیں

تحریر: حفصہ افضل

 

جہاں لفظ آجائے قربانی، تو وہیں یہ بات سامنےآجاتی ہے کہ کونسی قربانی؟؟؟صرف مالی قربانی یا عیدالاضحیٰ پہ ہونے والی قربانی؟؟؟ مالی قربانی سے مراد کہ انسان اپنے مال، اپنی چیزوں وغیرہ کی قربانی دیتے ہوئے لوگوں کی مدد کرے۔۔۔۔!! جبکہ عیدالاضحی کی سنت سے مراد کہ انسان وہ قربانی کرے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کے طور پر اللہ نے ہر صاحب استطاعت مسلمان پر لازم کردی ہے۔۔

جی ہاں یہ وہی قربانی ہے جو ایک باپ نے اپنے بیٹے کی قربانی کی ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کردی لیکن رب کریم نے اس وقت انکی جگہ ایک جانور یعنی دنبہ رکھ دیا۔جس کی صورت میں انھوں نے جانور ذبح کیا، لیکن اللّٰہ کو اپنے بندے کی قربانی محبوب تھی، اور اپنے حکم کی تعمیل کہ میرا بندہ کس طرح سے میرے حکم کی تعمیل کرتا ہے۔۔۔۔

ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم کی پیروی کی تو دوسری جانب رب کریم نے اس حکم کی بدولت ہمیں پوری امت مسلمہ کو یہ پیغام دے دیا کہ لوگوں قربانی کا اصل مقصد تقویٰ ہے اور اللّٰہ کی رضا حاصل کرنا مطلوب ہے کیونکہ قربانی کا مقصد محض جانوروں کو ذبح کرنا، انکا گوشت تقسیم کرنا یا انکی نمودونمائش نہیں بلکہ یہ وہ قربانی جو روح کی پاکیزگی ہے، دلوں میں ایمان کی تازگی اور تجدید عہد کا نام ہے کہ ہمارا ہر عمل بشمول جینا اور مرنا، ہماری ہر عبادت حتیٰ کہ پوری زندگی اللّٰہ کی رضا کے لیے وقف ہے۔

اللّٰہ کے پاس ہمارے ان جانوروں کا جو ہم ذبح کرتے ہیں اسکا گوشت اللّٰہ تک نہیں پہنچتا بلکہ اللّٰہ تک تو ہمارے جانور کا خون، قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللّٰہ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور اسکے ساتھ ہی ہمارا تقوی بھی اللّٰہ تک پہنچ جاتا ہے۔ تو اس لیے دل کی پوری خوشی سے اور خلوص نیت سے قربانی کرنا ہم سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ ؎

ابراہیمی  نظر  پیدا  مگر   مشکل   سے   ہوتی  ہے

ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

اوپر قربانی کے مقصد کو بیان کرنا اس بات کی وضاحت ہے کہ آج کا ہر انسان قربانی اور امداد کے فرق کو واضح طور پر سمجھ سکے۔۔ کیونکہ آج کل کچھ کالی بھیڑیں ایسی موجود ہیں جو مسلمانوں جیسا ہی نام لے کر یہ ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں کہ قربانی میں پیسے ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے پیسوں کے ذریعے سے غریبوں کی امداد کرسکیں۔۔۔

کیا قربانی اور امداد ایک ہی چیز ہے؟ یا یہ بات کافی ہے کہ یہ کالی بھیڑیں جو قربانی اور امداد کے بیچ تضاد پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور مسلمانوں کو دین اسلام کے احکامات سے بری کرنا ہے۔ آخر غریبوں کی امداد تو تم اپنے مال سے اپنی دولت سے سارہ سال کر سکتے ہو، تم کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہو، کروڑوں کے بنگلے، گاڑیاں ، موبائل غرض کہ دنیا کی تمام لگژریز تمھیں میسر ہیں تو کیا تم اپنی ان دولت سے سارا سال غریبوں کی امداد نہیں کرسکتے؟؟؟

ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے سارا سال تم نے امداد کا نام نہیں لیا تو آخر قربانی کے نام سے امداد کیوں؟؟؟ جبکہ قربانی اور امداد دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ قربانی دین اسلام کا فریضہ انجام دینے کا نام ہے اور امداد اخلاقی اور انسانی ہمدردی کی بناء پر مدد کرنے کا نام ہے۔۔۔

اگر آج کالی بھیڑیں یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو انکے دین اسلام کے احکامات کی تعمیل کرنے سے دور کردیا جائے تو یاد رکھیں وہ کبھی اپنی سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی دین اسلام کا نام اس صفحہ ہستی سے مٹا سکتے ہیں۔ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی قربانیوں کا فریضہ انجام دیتے ہوئے غریب لوگوں میں گوشت باٹ کر انکی مدد کریں لیکن یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ قربانی نہ کی جائے اور قربانی کے پیسوں سے امداد کردی جا۔