ھفتہ 08 اگست 2020

رفیع کا وہ سدابہار گانا جس کی ریکارڈنگ کے دوران حلق سے خون بہنے لگا

برصغیر کے عظیم گلوکار اور موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع گائیکی ایک ایسا ہنر لے کر پیدا ہوئے تھے جو قدرت کسی کسی کو عطا کرتی ہے، یقین کرنا مشکل ہو مگر ایک بار تو سزائے موت کے ایک قیدی کی آخری خواہش بھی ان کا ایک گانا سننا تھا (یہ واقعہ آپ نیچے پڑھ سکتے ہیں)۔

سروں کے اس بادشاہ کو اپنے پرستاروں سے جدا ہوئے آج 40 برس بیت گئے مگر وہ اپنی آواز کے ذریعے آج بھی لاکھوں چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

24 دسمبر 1924 کو پیدا ہونے والا یہ گلوکار داتا کی نگری کے معروف محلے بھاٹی گیٹ کی گلیوں میں پل کر جوان ہوا، وہ ہر روز شہر کے سب سے بڑے لارنس گارڈن جا کر اپنی سریلی آواز کا جادو جگاتے تھے۔ 

اس نوجوان کی مدھر آواز، جب فضا میں گونجتی تو لوگ اس کی جانب کھنچے چلے آتے تھے۔

محمد رفیع نے اپنے آبائی محلے کے جن تھڑوں پر بیٹھ کر گلوکاری کے فن سیکھے، وہ آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں۔

وہ 1941 میں سترہ برس کی عمر میں ممبئی گئے لیکن لاہور شہر کے درو دیوار پر اب تک ان کی یادوں کے نقش موجود ہیں۔

ممبئی کی فلم انڈسٹری کے لیے محمد رفیع کی آواز کسی نعمت سے کم نہ تھی، وقت کے نامور موسیقاروں نے ان کی آواز کو قدرت کا انمول عطیہ جان کر اپنی لازوال دھنوں میں ڈھالا۔

فلم ’انمول گھڑی‘ کے گانے سے کریئر کا آغاز کرنے والے رفیع نے ساری زندگی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، یکے بعد دیگر کئی خوبصورت گیت رفیع کی پہچان بنے اور کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔

پچاس کی دہائی میں چاہے اداکار بھارت بھوشن ہوں، گرو دت ہوں یا دلیپ کمار، اسی طرح ساٹھ کی دہائی میں دھرمیندر ہوں، شمی کپور ہوں یا دیو آنند، یا پھر ستر کی دہائی میں جتیندر ہوں، رشی کپور ہوں یا امیتابھ بچن ان سب ہی کو محمد رفیع نے اپنی آواز دی۔

اداکار سنجیدہ ہو یا مزاحیہ، اگر آواز رفیع کی ہے تو فلمساز کا آدھا کام تو آسان ہوجاتا تھا، محمد رفیع کے گیت ایسے ہوتے تھے یوں لگتا کہ اداکار خود گا رہا ہو، اسی لیے انہیں شہنشاہ گلوکاری کہا گیا۔

ویسے تو محمد رفیع کے یادگار گانوں کی تعداد بلاشبہ بہت زیادہ ہے کیونکہ 3 دہائیوں سے زیادہ طویل کیرئیر کے دوران انہوں نے بہت زیادہ کام کیا۔

مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محمد رفیع کا ایک گانا ایسا ہے جس کو گانے کے دوران ان کے حلق سے خون بہنے لگا تھا۔

یپ فلم 'بیجو باورا' کا گانا 'او دنیا کے رکھوالے' تھا جسے شکیل بدایونی نے تحریر جبکہ موسیقار نوشاد علی نے کمپوز کیا۔

اسے راگ درباری میں گایا گیا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے محمد رفیع نے 15 دن تک ریاض کیا۔

کہا جاتا ہے کہ نوشاد نے گانے کے آخری سروں کے لیے محمد رفیع پر بہت زیادہ زور دیا جو بہت اونچے سر تھے جس کے نتیجے میں ان کی ووکل کورڈ (حلق کی جھلیوں) سے جریان خون شروع ہوگیا اور انہوں نے خون تھوکا۔

اس گانے کے نتیجے میں گلوکار کا گلا اتنا متاثر ہوا کہ وہ 10 روز تک گا نہیں سکے۔

نوشاد علی نے کئی سال بعد اس حوالے سے بتایا 'میں رفیع کی آواز کی رینج کو دکھانا چاہتا تھا'۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تجربے کے بعد محمد رفیع کا گلا اتنے اونچے سر نکالنے کے قابل ہوگیا اور کئی برس بعد ٹی وی پر لائیو گانے کے دوران انہیں کسی قسم کا مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔

اسی گانے کے بارے میں ایک اور واقعہ بھی بہت مشہور ہے جس کے مطابق ایک بار کسی مجرم کو پھانسی کی سزا دی جانی تھی۔

جب اس سے آخری خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کسی کھانے یا رشتے دار سے ملاقات کی بجائے کہا کہ وہ محمد رفیع کا گانا 'او دنیا کے رکھوالے' مرنے سے پہلے سننا چاہتا ہے۔

جیل کے حکام اس خواہش کے بارے میں جان کر دنگ رہ گئے اور اسے پورا کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر پر اس گانے کو قیدی کو سنایا بھی گیا۔