ھفتہ 08 اگست 2020

حیدرآباد میں‌ پولیس کا اینکر پرسن اقرار الحسن پر حملہ

تفصیلات کے مطابق سندھ کے شہر حیدرآباد میں پولیس نے پروگرام سرعام کے اینکر پرسن اقرار الحسن پر حملہ کردیا، ٹیم سرعام نے ہٹڑی تھانے کی جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی پر اسٹنگ آپریشن کیا تھا.

ذرائع کے مطابق تھانےکےایس ایچ اوفاروق راؤاورسب انسپکٹرنےاقرارالحسن کوماراپیٹااورکمرےمیں بندکرنےکی کوشش کی.

ذرائع کے مطابق تھانے کے اہلکار گٹکا اور مین پوری کی گاڑیوں‌ کو رشوت کے عوض‌ چھوڑ دیتے تھے.

ویڈیو میں‌ دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اور اینکر پرسن کے درمیان مڈ بھیڑ جاری ہے اور پولیس اہلکاروں‌ کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے بجائے اقرار الحسن سے مارپیٹ کی جارہی ہے.

اقرار الحسن کا کہنا ہے کہ جب ان کے پاس کرپشن چھپانے کا کوئی جواز نہ بجا تو یہ پولیس اہلکار بدتہذیبی اور مارپیٹ پر اتر آئے‌، تشدد اور طاقت کا استعمال کرتے رہے لیکن ثابت قدم رہے.

انہوں‌ نے بتایا کہ اس تھانے کی حدود سے مین پوری گٹکے کی گاڑی گزرنے کی پچاس ہزار روپے کی ڈیل تھی، پندرہ لاکھ روپے کے چیک انہوں‌ نے ایڈوانس میں‌ لیے اور ایک ماہ کی ڈیل کرتے ہوئے گٹکا مین پوری مافیا کو میرپورخاص ودیگر علاقوں میں‌ روزانہ کی بنیاد پر جانے کی اجازت دی گئی.

اقرار الحسن نے کہا کہ ہمارا جرم یہ تھا کہ ہم نے ایس ایچ او رشوت لیتے ہوئے ان کی ویڈیو دکھائی اور ان کی کرپشن کو بے نقاب کردیا جس پر وہ سیخ‌ پا ہوگئے لیکن ہم ثابت قدم رہے اور اپنا کام کرتے رہے.

انہوں‌ نے کہا کہ جب پروگرام آن ایئر ہوگا تو اس میں‌ ایس ایچ او خود اعتراف کررہے ہیں‌ اوربتایا جارہا ہے کہ اس میں‌ ڈی ایس پی کے پیسے بھی ہیں، پیسے مزید افسران تک بھی پہنچائے جائیں‌ گے.

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تشدد میں‌ ملوث ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ پولیس اہلکار کو لاک اپ کردیا گیا ہے.

وزیر اعلیٰ‌ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی حیدرآباد سے معاملے کی تفصیلات طلب کرلیں.

واضح‌ رہے کہ سندھ میں‌ گٹکے اور مین پوری کے خلاف ایس ایس پی کی جانب سے کریک ڈاون کیا جارہا ہے، اس سے قبل مین پوری اور گٹکا برآمد کرکے مافیا کو بے نقاب کیا جاچکا ہے.