ھفتہ 08 اگست 2020

حبس صحت کو کیسے متاثر کرتا ہے؟

جولائی اور اگست کے مہینوں میں ساون کی  بارشوں کی وجہ سے موسم کافی حد تک خوش گوار رہتا ہے مگر بارش کے ساتھ  شدید حبس بھی ہو جاتا ہے۔ 

اس موسم میں جب ہوائیں بند ہو جائیں تو الرجی کے مریضوں کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ماہرین  اس موسم میں زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے پر زور دیتے ہیں جس کی اہم وجہ انسانی جسم پر حبس کے مرتب ہونے والے منفی اثرات ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں  وبائی امراض اور معدے کے ماہر ڈاکٹر وسیم خواجہ نے حبس کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں اردو نیوز کو بتایا کہ اس سے سانس، گھبراہٹ اور بلڈ پریشر کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

 ’موجودہ حالات میں بالخصوص جب کورونا کا مرض بھی موجود ہے اگر احتیاط نہ کی گئی تو کورونا کے مریضوں کے لیے مزید پچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

ڈاکٹر خواجہ نے بتایا کہ حبس میں دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے اور زیادہ سے زیادہ پانی اور مائع چیزوں کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ خوارک میں سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھا دینا چاہیے۔

ان کے مطابق ان دو مہینوں یعنی جولائی اور اگست میں اپنی خوارک میں کیلشم، پوٹاشیم اور وٹامن سی کا استعمال بھر پور کرنا چاہیے۔

’اکثر لوگ ایئر کنڈیشن استمعال کرنے کے بعد فوراً گرمی میں نکل جاتے ہیں، جس سے ان کے جسم کا درجہِ حرارت متاثر ہوتا ہے۔ یہ عمل خطرناک ہو سکتا ہے۔ اے سی استعمال کرنے کے بعد اُس کو بند کر کے اُسی کمرے میں تھوڑا وقت گزارنا چاہیے اور جسم کا درجہِ حرارت معمول پر آنے کے بعد اس کمرے سے نکلنا چاہیے۔‘  

’لوگ گرمی اور حبس میں عید الاضحی پر گوشت کھانے میں احتیاط کریں‘ (فوٹو: اے ایف اپی)

 

ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا ہے کہ اس موسم میں خوارک پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

’لوگ گرمی اور حبس میں عید الاضحی پر گوشت کھانے میں احتیاط کریں، گرمی کی وجہ سے زیادہ  گوشت کھانا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ گرمی کے موسم میں انسان کا معدہ زیادہ اشیا ہضم نہیں کر پاتا خصوصاً گوشت وغیرہ زیادہ مقدار میں کھانا ہیضے سمیت مختلف بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ گوشت کھائیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔‘

ڈاکڑ وسیم خواجہ کے مطابق اس موسم میں دن میں دومرتبہ نہانا ضروری ہے۔ اس طرح جسم کا درجہِ حرارت معمول پر رہتا ہے اور انسان کو خود سے پسینے کی بدبو بھی نہیں آتی۔