ھفتہ 08 اگست 2020

کیوی مدافعتی نظام کی بہتری کے لیے لاجواب

سیب اور سنگترے کے مقابلے میں اکثر کیوی سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے حالانکہ یہ معدنیات اور وٹامنز پر مشتمل ایک چھوٹا سا پاور ہاؤس ہے۔ خصوصاً جب اس کو بیرونی سطح یعنی جلد سمیت استعمال کیا جائے۔

چاہے آپ اس کے سلائسز بنائیں، دو یا زیادہ ٹکڑے کریں، پورا ہی استعمال کریں یا پھر جیسے بھی کھائیں یہ اپنے اندر ایسی بے شمار خصوصیات رکھتا ہے جو صحت کے لیے مفید ہیں اور اسے آپ کی خوراک کا اہم حصہ بناتی ہیں۔

قوت مدافعت میں اضافہ

کیوی وٹامن سے بھرپور ہے۔ اس کا صرف ایک کپ روزانہ کی ضرورت کے ڈبل کے برابر ہے۔ وٹامن سی مدافعتی نظام کی بہتری کے لیے لاجواب ہے۔

ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کیوی کھانے سے فلو، نزلہ اور اسی قسم کے دوسرے عارضوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، خصوصاً بچوں اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد میں۔

کیوی میں وٹامن ای کی اچھی خاصی مقدار ہوتی ہے جو امیونوگلوبینز بنانے اور مرض پیدا کرنے والے اثرات کے خاتمے کے لیے مفید ہے۔

جُھریوں سے بچاؤ

یہ وٹامن سی کی ہی طاقت ہے جو اس ضمن میں بھی کام آتی ہے اس سے وہ کولیجنز متحرک ہوتے ہیں جو جلد کی بہتری کے لیے مفید ہیں۔

کیوی جھریوں کو کم کرتی ہے اور جلد کو خشکی سے بھی بچاتی ہے (فوٹو: ان سپلیش)

 

صحت سے متعلق ایک امریکی میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق وٹامن سی پر مشتمل خوراکیں نہ صرف جھریوں کو کم کرتی ہیں، بلکہ جلد کو خشکی سے بھی بچاتی ہیں۔

وٹامن سی جلن کو کم کرنے میں بھی مفید ہے اس میں ایسے اجزا بھی موجود ہیں جو آنکھوں کے گرد سوجن سے بھی نجات دلاتے ہیں۔

صحت مند آنکھیں

 کیوی کے اندر ایسے کیمیائی اجزا موجود ہیں جنہیں زیکسینتھن اور لیوٹین کہا جاتا ہے، جو آنکھوں کی اچھی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں اور خوراک میں ان کا شامل ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ جسم ان کو خود پیدا نہیں کر پاتا۔ جسم میں ان کی کمی کی وجہ سے سیدھ میں دور تک دیکھنے کی قوت متاثر ہو سکتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ اس فروٹ کے استعمال سے نظر کی خرابی کے امکانات 36 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔

روزانہ کیوی کھانے سے نظر کی خرابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں (فوٹو: پیکسل)

 

دمہ سے بچاؤ میں مدد گار

تحقیق بتاتی ہے کہ کیوی جیسے پھل جن میں وٹامن سی کی بہتات اور اینٹی ڈائی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہیں، ان کو کھانے سے پھیپھڑوں کا نظام بہتر ہوتا ہے جس سے دمے کے مریضوں کے علاج میں آسانی ہوتی ہے۔

فرانسیسی کیویز ان بچوں کے لیے بھی مفید ہیں جن کو دمہ ہے یا سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

اینٹی آکسیڈنٹس سے زخموں کے خراب ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں (فوٹو: ان سپلیش)

 

شفایابی میں تیزی

وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور چیزیں جیسے کیویز زخموں کے بھرنے کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔

وٹامن سی پر مشتمل خوراک اگر آپ کی خوراک کا حصہ ہو تو سرجری کے بعد زخموں کے مندمل ہونے کا عمل تیز ہو گا کیونکہ اینٹی آکسیڈنٹس کی بدولت زخموں کے خراب ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔