جمعہ 18 ستمبر 2020

لبنان: بیروت میں دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد 78 ہو گئی

لبنان: بیروت میں دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد 78 ہو گئی

بنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر اسلحے کے گودام میں ہونے والے دھماکوں سے ہلاک افراد کی تعداد 78 ہو گئی جب کہ 3000 افراد زخمی ہیں۔

بیروت کی بندرگاہ پر اچانک دھماکوں اور تباہی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبزول کرا لی۔

بندر گاہ پر ہونے والے دھماکوں میں ابتدائی طور پر 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں تاہم اب ہلاک افراد کی تعداد بڑھ کر 78 ہو ہو گئی ہے جب کہ 3000 کے قریب افراد زخمی ہیں۔

ہلاک افراد میں لبنان کی خطیب پارٹی کے سیکریٹری جنرل نذر نجارائن بھی شامل ہیں جب کہ درجنوں زخمیوں کی حالت نازک ہے جس کے سبب اموات کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکے اس قدر شدید تھے کہ 24 کلومیٹر دور تک عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

دھماکوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بندرگاہ کے علاقے میں کئی گاڑیاں اڑ کر عمارتوں کی تیسری منزل پر جا گریں۔

بیروت کے گورنر نے بندر گاہ پر ہونے والے دھماکوں کو ہیرو شیما جیسی تباہی قرار دیا ہے۔

لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے اس گودام میں ہوئے جہاں 2750 ٹن ایمونیم نائٹریٹ رکھا ہواتھا۔

بیروت دھماکوں کے بعد ایک گاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے۔ فوٹو: ٹوئٹر/سیٹھ عبداللہ

انھوں نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ 6 برس سے یہ مواد وہاں کیسے موجود تھا۔

لبنانی وزیر اعظم نےاس پر آج یوم سوگ کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ دھماکے کے ذمے داران کو قیمت چکانا ہو گی۔

لبنان پر اسرائیل نے چند برس پہلے جنگ مسلط کی تھی، یہی وجہ تھی کہ اسرائیل کو وضاحت کرنا پڑی کی کہ ان دھماکوں سے اسرائیل کا لینا دینا نہیں ہے۔