جمعہ 18 ستمبر 2020

طاقت کا سرچشمہ۔....آئی ایم ایف

طاقت کا سرچشمہ۔....آئی ایم ایف

پاکستان کی معیشت اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اپوزیشن اقتدار میں آنا چاہتی ہے اور نہ ہی قومی حکومت میں شامل ہو سکتی ہے موجودہ حکومت نے ناتجربہ کار ٹیم کے ساتھ تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار سنبھالامگر کوئی بھی وزیر یا مشیر تبدیلی نہ لا سکا بلکہ حالات پہلے سے زیادہ گھمبیر صور تحال کی عکاسی کر رہے ہیں۔ماضی کی حکومت کے خلاف بے لاگ تبصرے اور تنقید کو عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی،بالخصوص نوجوان طبقہ تبدیلی کا خواہشمند تھا تاکہ انکا مستقبل بن سکے،کشکول توڑنے والوں نے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا۔ قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ کوئی معجزہ ہی پاکستان کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔

ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور موجودہ حکومت میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں، احتساب غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے،اشرافیہ،صاف و شفاف، بے لاگ احتساب کی متحمل نہیں ہو سکتی،بیوروکریسی نے ناتجربہ کار حکومتی ٹیم کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، روپے کی قدر میں بے تحاشا کمی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے،سرکاری ملازمین دوسال سے بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہوسکنے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوانوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند پڑے ہیں، موجودہ تبدیلی سرکارنے پاکستان کو دو سال کے دوران اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں یکدم صورتحال کو تبدیل کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اگر آئی ایم ایف نے ہی ملک چلانا ہے تو جمہوری حکومت کے قیام کے لیے انتخابات کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے، پوری دنیا اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے تو کورونا نے پاکستان کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، پاکستان ووٹ کی طاقت سے معرض وجود میں آیا جبکہ جمہوریت کا کوئی نعم البدل نہیں مگر اب عوام کی اکثریت زیر لب ڈکٹیٹروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے جو کسی بھی جمہوری حکومت کیلئے خوش آئند نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے۔

ایوان بالا تک سٹیک ہولڈروں نے اقتدار تو منتقل کرا دیا مگر نچلی سطح تک عوام کو اقتدار میں شامل نہیں کیا گیا، بلدیاتی اداروں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے ہر حکمران نے اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام نافذ کرنیکی کوشش کی، عوام بنیادی مسائل کے حل کیلئےدربدر کی ٹھوکریں کھانےپرمجبور ہیں،اپوزیشن جسے ماضی میں حکومت کا تجربہ حاصل ہے کسی بھی قیمت پر موجودہ صورتحال میں نہ تو اقتدار کی خواہشمند ہے اور نہ ہی قومی حکومت میں شمولیت چاہتی ہےالبتہ نئے انتخابات کے نعرے کو تقویت حاصل ہو سکتی ہے تو دوسری طرف ملکی معیشت نئے انتخابات کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاکستان کے موجودہ حالات سے جہا ں اندرون ملک عوام مایوس اور ناامید ہو چکے ہیں وہاں اوورسیز پاکستانی بھی سخت متفکر نظر آتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن نے یورپ، امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا تسلیم کرایا مگر دوہری شہریت رکھنے کی وجہ سے انکی صلاحیتوں سے فائد ہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

قیام پاکستان سے لیکر اب تک جمہوری حکومتوں کی کارکردگی پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو صدارتی اور جمہوری نظام کی بحث شروع ہو جائیگی اب وقت آ گیا ہے کہ غیر جمہوری قوتیں عوام کی رائے کو اپنی مرضی کے مطابق نتائج حاصل کرنے کی کوششوں کا تدارک کریں، انصاف اور احتساب سب کیلئے برابر ہونا چاہیے ،موجودہ حکومت کا تھنک ٹینک اس امر سے پوری طرح باخبر ہے کہ نادیدہ قوتیں جب چاہیں انکی حکومت ختم کرنے کی پوزیشن میں ہیں انہی قوتوں نے ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو صوبوں تک محدود کر رکھا ہے جو انتہائی خطرناک ہے، ان سیاسی جماعتوں کو صوبوں تک محدود رکھنے کی وجہ سے مرکز میں ایک مضبوط حکومت کا خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے تعبیر نہیں۔ کاش ہم انفرادی سوچ کی بجائے اجتماعی سوچ کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔