جمعہ 18 ستمبر 2020

ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کردیا

ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین کے لیے نئی پالیسی کا اعلان کردیا

 آن لائن ویڈیو شیئرنگ موبائل ایپلیکیشن ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین کے لیے نئی پالیسی جاری کردی۔

ٹک ٹاک کی جانب سے پاکستان میں ایپلیکیشن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کمیونٹی گائیڈ لائن جاری کی گئیں ہیں، جن کا مقصد صارفین کو تحفظ اور مثبت ماحول فراہم کرنا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’گائیڈ لائن صارفین کے لیے مددگار ثابت ہوں گی اور انہیں خوش آئند ماحول فراہم کرنے کی ضامن بھی ہوں گی‘۔

پاکستانی صارفین کے لیے جاری ہونے والے رہنما خطوط یا ہدایت نامے میں بتایا گیا ہے کہ کس قسم کا مواد ٹک ٹاک پر شیئر کیا جاسکتا ہے اور کون سی ویڈیوز پر پابندی ہے، ایسے اقدامات تخلیقی صلاحیت کے صارفین کی مزید حوصلہ افزائی کریں گے اور دیگر صارفین کو تفریحی فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

ٹک ٹاک نے واضح کیا ہے کہ جو ویڈیوز پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی میں شمار کی جائیں گی انہیں پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جائے گا اور جو صارف کمیونٹی گائیڈ لائن کی مسلسل خلاف ورزی کرے گا اُسے نشاندہی کے بعد بند کردیا جائے گا۔

کانٹینٹ مارڈریشن Content Moderation

کمیونٹی گائیڈ لائن کے تحت کانٹیٹ ماڈریشن کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ٹک ٹاک کی ٹیم متنازع یا غیر اخلاقی مواد کی نشاندہی کرے گی اور جائزہ لینے کے بعد شیئر کرنے والے صارف کو قانون کے مطابق سزا بھی دے گی۔

کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کانٹینٹ مارڈیشن دراصل آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے منسلک ہے، جو گائیڈ لائن کی خلاف ورزی کرنے والی ویڈیوز کی فوری نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ٹک ٹاک نے واضح کیا ہے کہ پلیٹ فارم پر مزاح، کسی گانے کی لپسنگ ، شاعری سمیت دیگر اقسام کی ویڈیوز گائیڈ لائن کی خلاف ورزی نہیں ہیں، اس کے علاوہ خطرناک چیلنجز، یا نقصان پہنچانے والی ویڈیوز، بے بنیاد معلومات اور غیر اخلاقی مواد کو پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا جائے گا۔

کمپنی نے صارفین نے اپیل کی کہ اگر وہ کوئی نامناسب ویڈیو دیکھیں تو وہ ایپ میں موجود فیچر کو استعمال کرتے ہوئے اُسے رپورٹ کریں تاکہ نامناسب ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ہٹایا جائے۔

ٹک ٹاک ترجمان کے مطابق کمپنی نے اپنی سخت پالیسیوں اور قواعد و ضوابط کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے دنیا بھر سے اپ لوڈ ہونے والی سیکڑوں ویڈیوز کو پلیٹ فارم سے ڈیلیٹ کیا۔

کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کا شمار اُن پانچ بڑے ممالک میں ہوتا ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد معیاری ویڈیوز بنا کر شیئر کرتی ہے اور ایپلیکیشن کو استعمال کرتی ہے، اس لیے پاکستان سے رپورٹ ہونے والے مواد پر انتظامیہ ایکشن لینے کی پابند ہے۔