جمعہ 18 ستمبر 2020

معروف اداکارہ نیلم منیر کا لاہور موٹروے کیس پر شدید برہمی کا اظہار

Leading actress Neelam Munir expresses anger over Lahore Motorway case
نیلم عُمر کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بیان پر برہمی کا اظہار

معروف اداکارہ نیلم منیر نے لاہور موٹروے کیس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کردیا ہے۔

لاہور موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے درد ناک واقعے پر جہاں سماجی کارکن اور سوشل میڈیا صارفین شدید غم وغصے کے عالم میں ہیں تو وہیں شوبز شخصیات میں بھی اس واقعے کے بعد سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اِس ضمن میں نامور اداکارہ نیلم منیر نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں دِکھا گیا کہ ایک عورت وحشی درندوں کی حوس کے ہاتھوں بھیڈ چڑھی ہوئی ہے۔


نیلم منیر نے اپنی پوسٹ کا ایک طویل کیپشن لکھتے ہوئے اِس معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کی، اُنہوں نے لکھا کہ ’ریپسٹ اور اِس طرح کے گھناؤنے جرم میں ملوث مجرمان یہ جرائم ایسے کرتے ہیں کہ جیسے اُنہیں استثنیٰ حاصل ہو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ چاہے کتنی بھی زیادتیاں کرلیں اُنہیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔‘

اداکارہ نے کہا کہ ’یہ بات یاد رکھیں کہ انصاف میں تاخیر کرنے سے کبھی انصاف نہیں ملتا ہے۔‘ اُنہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ملک میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے جس کا وعدہ وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی کام نہیں کیا گیا ہے۔‘

اُنہوں نے سی سی پی او (لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر) عُمر شیخ کے متنازع بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اس پورے کیس میں سی سی پی او نے زیادتی کی خاتون کو ہی اس واقعے کی ذمہ دار ٹھہرادیا جس کے بعد میرا بہت خون کھول رہا ہے کیونکہ اِس طرح کا بیان ایک ذہنی مریض ہی دے سکتا ہے۔‘

نیلم عُمر نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعلیٰ پنجاب کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی او صاحب کو تھوڑا وقت دیں تاکہ معاملات بہتر ہوسکیں، یہ کس طرح کے لوگ ہیں کیا اِنہیں کوئی شرم و حیا نہیں ہے؟‘

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے ہی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

درندہ صفت دو افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، ملزمان خاتون کو موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر قریبی جھاڑیوں میں لے گئے۔

بعدازاں سی سی پی او لاہور نے متاثرہ خاتون پر ہی سوالات اٹھادیے اور کہا تھا کہ اکیلی خاتون کو آدھی رات میں موٹروے سے جانے کی ضرورت کیا تھی؟