ھفتہ 19 ستمبر 2020

ایک نظر اس طرف بھی اے چارہء گِراں۔۔۔

Take a look at this too, O four-headed ...
کینیڈا سے تعلق رکھنے والی نوجوان سیاح روزی گیبرائیل
تحریر: انزک چوہدری

ساتھ منسلک تصویر کینیڈا سے تعلق رکھنے والی نوجوان سیاح روزی گیبرائیل کی ہے۔ 

جو بائیک پر پوری دنیا کا سفر کرنے نکلی ہیں۔ روزی پچھلے سال 2019 میں پاکستان آئی تھیں۔  بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے پاکستان اور چین بارڈر خنجراب تک 1500 کلومیٹر پر محیط سفر انہوں نے اپنی بائیک پر کیا۔ تنِ تنہا بائیک پر اتنا طویل سفر کرتے دوران انہیں ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں ہیں۔

ان ہی کے بقول جب وہ یہاں آ رہی تھیں تو لوگوں نے کہا کہ اکیلی پاکستان نہ جاؤ۔ وہ بہت خطرناک ملک ہے۔ لیکن یہاں آ کر تمام اندازے یکسر غلط ثابت ہوئے۔

ان کے بقول یہاں کے لوگ انتہائی ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ جہاں کہیں انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہوتا لوگ بھاگ بھاگ کر ان کی مدد کرتے۔

کسی ہوٹل پر چائے پینے کے لیے رکتیں تو یا تو ان کا بل کوئی اور ادا کر دیتا یا پھر ہوٹل والا پیسے لینے سے ہی انکار کر دیتا کہ آپ مہمان ہیں۔ رات کو قیام کے دوران فیملیز کی خواہش ہوتی کہ وہ ان کے پاس ہی رکیں۔

روزی کے مطابق کئی بار ایسا ہوا کہ صحرا یا کسی ویران علاقے کے عین بیچوں بیچ ان کی بائیک خراب ہوئی۔ تب کہیں نہ کہیں سے کوئی پاکستانی ان کی مدد کو آن پہنچتا۔ لوگ ان کی بائیک کو گھسیٹ کر قریبی مقام تک لے جاتے۔  

اپنے یہ سب تاثرات روزی نے ایک ڈاکومنٹری ویڈیو کی صورت عکسبند کئے ہیں۔ ڈاکومنٹری کا عنوان ہے "پاکستان: میری زندگی کیسے تبدیل ہوئی"

ڈاکومنٹری کا لنک اسی پوسٹ کے آخر میں موجود ہے۔ قارئین ہم دعوے سے کہ سکتے ہیں کہ اگر یہ ویڈیو پاکستان سے محبت کرنے والا کوئی بھی شخص دیکھ لے تو اس کی آنکھ نم ہو جائے گی۔

روزی نے پاکستان یاترا کے دوران مذہب اسلام کا بھی تفصیل سے مطالعہ اور موازنہ کیا۔ اور اب اسلام قبول کر چکی ہیں۔ بلا شبہ وہ ان قابلِ قدر ہستیوں میں شامل ہیں جنہوں نے دنیا کو پاکستان کے حقیقی چہرے سے روشناس کروایا۔

گذشتہ دنوں موٹروے پر ہونے والے سانحے کی آڑ میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں خصوصاً ان خواتین اداکارائیں جنہوں نے اپنے وطن کو برا بھلا کہنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی؛ کو روزی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ یہ وطن ایسا برا بھی نہیں۔ یہاں کے مکینوں کی مہمان نوازی کی پوری دنیا معترف ہے۔ 

گو کہ حالیہ سانحہ بہت بڑا ہے۔ لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ اس واقعے کا پتہ چلنے کے بعد پورا پاکستان چیخ اٹھا ہے۔ ایسے اندوہناک واقعات دنیا میں جہاں کہیں ہوتے ہیں وہاں ان کا سدِ باب کرنےاور ذمہ داروں کو پکڑ کر نشانِ عبرت بنانے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ نہیں اپنے ملک، اپنی مادرِ وطن کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کی جائے۔ 

وطن کے خلاف بات کرنے والی عائشہ عمر جیسی اداکاراؤں کی بجائے روزی گبرائیل ہزار درجے بہتر ہے جس نے اس ملک سے کچھ اچھا پایا تو اس کے گُن پوری دنیا کے سامنے گائے۔ 

میری درخواست ہو گی کہ ایک بار آپ نیچے دی گئی ڈاکومنٹری ضرور دیکھیں۔ یقین کیجیے فرطِ مسرت سے آپ کی آنکھ میں آنسو اور دل میں فخر کے جذبات نہ امڈ آئیں تو کہنا۔ اپنے آپ کو دوسروں کی نظر سے دیکھو۔ 

روزی گبرائیل کی ڈاکومنٹری ویڈیو: