ھفتہ 19 ستمبر 2020

ریسٹورنٹس نے فوڈ پانڈا کا بائیکاٹ کیوں کیا؟

Why did restaurants boycott Food Panda / Dharti News
فوٹو فائل : رائٹرز

آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن نے کمیشن بڑھانے کے مطالبے پر فوڈ پانڈا کا بائیکاٹ کر دیا

ای پی آر اے نے کمیشن میں اضافے کے مطالبے پر کراچی میں فوڈ پانڈا کا 3 روز کے لئے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بائیکاٹ ابتدائی طور پر تین روز کیلئے ہوگا اور معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں مستقل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن (ای پی آر اے) کے چیئرمین محمد نعیم صدیقی نے معروف فوڈ سپلائر نیٹ ورک فوڈ پانڈا کے سی ای او کو خط لکھ کر کہا ہے کہ فوڈ پانڈا بار بار اپنی کمیشن میں اضافے کے لئے ریسٹورنٹس پر دباؤ ڈال رہی ہے۔

اگر ریسٹورنٹس کی شکایات پر توجہ نہ دی گئی تو فوڈ پانڈا کے ساتھ مستقل طور پر کام کرنا چھوڑ دیں گے۔

چیئرمین ای پی آر اے کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ریسٹورنٹس کی صنعت میں منافع کی شرح کم ہے۔

اس کے باوجود کمیشن میں اضافے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے اور 25 سے 30 فیصد کمیشن مانگا جارہا ہے جو ناممکن ہے۔

چیئرمین محمد نعیم صدیقی نے بتایا کہ نئے کھلنے والے ریسٹورنٹس کیلئے یہ خاص طور پر مشکل ہے کیونکہ ان کے آغاز میں ہی اخراجات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور فوڈ پانڈا کی انتظامیہ ریسٹورنٹس مالکان کو بلیک میل کرتی ہے تاکہ کمیشن کو کئی گنا بڑھایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ فوڈ پانڈا نے دھمکی دی ہے کہ کمیشن کو 18 فیصد سے بڑھاکر 25 فیصد نہ کیا گیا تو وہ ریسٹورنٹس کو اپنے پورٹل اور ایپلی کیشن سے ہٹا دیں گے۔

یہ ریسٹورنٹس مالکان کو اپنی شرائط منوانے کا انتہائی غیر پیشہ ور طریقہ کار ہے۔

نعیم صدیقی نے یہ بھی بتایا کہ فوڈ پانڈا ریسٹورنٹس کو دوسری ڈلیوری کمپنیوں کے ساتھ کاروبار سے زبردستی روک کر اپنے کاروباری حریفوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔