منگل 27 اکتوبر 2020

کیا آپ جانتے ہیں کہ بھارت میں گدھی کا دودھ کس قیمت پر بک رہا ہے؟

Do you know at what price donkey's milk is being sold in India | Dharti News
فوٹو : رائٹرز

کسی کو اگر گدھا کہا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسے بیوقوف سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ہر وقت کام میں مگن رہتے ہیں اُن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلاں (شخص) جو گدھوں کی طرح کام کرتا ہے؟

پاکستان اور بھارت میں گدھوں کو عام طور پر بوجھ ڈھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن موٹر سے چلنے والے انجنوں کی مارکیٹ میں آمد کے بعد سے گذشتہ چند برسوں میں گدھوں کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

لیکن اب گدھوں کے بارے کچھ ایسی معلومات سامنے آ رہی ہیں جس کی وجہ سے لوگ اُن کی آبادی دوبارہ سے بڑھانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ٹائمز آف انڈیا نے 8 ستمبر کو ایک خبر شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست ہریانہ میں انڈین زرعی تحقیقاتی کونسل کے ذیلی ادارے نیشنل ریسرچ سینٹر آن ایکوائنز (آین آر سی ای) یعنی گھوڑوں اور گدھوں پر تحقیق کرنے والے ادارے نے ایک دودھ کا پلانٹ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔


اخبار کے مطابق اس میں ہلاری نسل کے گدھیاں رکھی جائیں گے اور ان کا دودھ دھویا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اے بی پی نیوز، نوبھارت ٹائمز، نیشنل ہیرالڈ جیسے مختلف میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان گدھیوں سے حاصل ہونے والا دودھ 7 ہزار روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا سکتا ہے۔ ان میڈیا رپورٹس میں گدھے کے دودھ کے فوائد کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ بہت سے جانوروں کے دودھ کو قدرے کم معیار کا سمجھا جاتا ہے جس میں گائے اور گھوڑی کا دودھ بھی شامل ہے۔ گدھی اور گھوڑی کے دودھ میں ایسے پروٹین پائے جاتے ہیں جو ان لوگوں کے لیے بھی مفید ہیں جو گائے کے دودھ سے الرجک ہوتے ہیں۔

ایف اے او کے مطابق یہ دودھ انسانی دودھ کی طرح ہے، جس میں پروٹین اور چربی کم ہے لیکن اس میں لیکٹوز ہوتے ہیں۔ یہ دودھ جلد پھٹ جاتا ہے لیکن اس دودھ سے پنیر نہیں بنایا جا سکتا۔ ایف اے او کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کاسمیٹکس اور دواسازی کی صنعت میں بھی استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں خلیوں کی افادیت اور قوت مدافعت بڑھانے کی بھی خصوصیات ہیں۔

سننے میں آیا ہے کہ قدیم مصر کی حکمران ملکہ کولوپیٹرا اپنی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے گدھی کے دودھ سے غسل لیتی تھیں۔

این آر سی ای کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر مکتی باسو کا کہنا ہے کہ گدھی کے دودھ کے دو بڑے فوائد ہیں۔ پہلا یہ کہ یہ دودھ خواتین کے دودھ کی طرح صحت مند ہے، اور دوسرا اس میں ایسے مرکبات ہیں جو جلد کی پرورش کرتے ہیں اور ان کی صحت بہتر بنانے کے علاوہ انھیں نرم و ملائم بھی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر باسو کہتی ہیں بھارت میں گدھی کے دودھ پر ابھی بہت تحقیق ہونا باقی ہے کیونکہ لوگ اس کے فوائد سے واقف نہیں ہیں جبکہ یورپ میں لوگ اس کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ وہاں نوزائیدہ بچوں کے لیے پاسچرائزڈ دودھ استعمال ہو رہا ہے اور اب امریکہ نے بھی اس کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ ڈاکٹر باسو کا کہنا ہے کہ گدھی کے دودھ سے انڈیا میں کم مصنوعات بنائی جا رہی ہیں لیکن جب اس کی مانگ میں اضافہ ہو گا تو مشکلات ہو سکتی ہیں کیونکہ انڈیا میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔

دودھ حاصل کرنے کے لیے این آر سی ای گجرات سے ہلاری نسل کے گدھے لا رہا ہے۔ گجرات کی آنند زرعی یونیورسٹی کے محکمہ حیوانات سے منسلک پروفیسر ڈی این رنکے کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت میں گدھوں کی نسل کے بارے میں ایسا کام کیا گیا ہے۔

رنکے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت میں گدھوں کی سپتی نسل کو پہچانا گیا تھا۔ اب گجرات کے جام نگر اور دوارکا میں پائے جانے والے ہلاری نسل کے گدھوں کو بھی پہچان لیا گیا ہے۔ یہ گدھا عام گدھوں سے قدرے اونچا اور گھوڑوں سے چھوٹا ہے۔ ابھی تک بھارت میں گلیوں اور سڑکوں پر گھومنے والے گدھوں کی نسل کا تعین نہیں ہو سکا تھا لیکن اب ہم نے دو نسلوں کی شناخت کر لی جو کہ خوش آئند بات ہے۔‘ پروفیسر رنکے کا کہنا ہے ایک گدھی ایک دن میں زیادہ سے زیادہ آدھا لیٹر دودھ دیتی ہے اور اگر گدھی کی دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ اور بھی کم ہو جائے گا۔

یورپ اور امریکہ میں گدھے کے دودھ کا کاروبار کافی پہلے سے ہے لیکن بھارت میں ابھی اس کی صرف شروعات ہیں اور یہ دودھ مہنگا ہے، لیکن اتنا بھی نہیں کہ اسے فی لیٹر 7ہزار روپے تک فروخت کیا جائے۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر باسو کا کہنا ہے کہ یہ تو ابھی شروعات ہے اور تمل ناڈو، کیرالہ اور گجرات میں صرف چند لوگوں نے گدھیوں کو فارم میں رکھنا شروع کیا ہے۔

سلیم عبد اللطیف دادن ممبئی سے ’ویری ریئر آن لائن ڈاٹ کام‘ کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتے ہیں جو اونٹ، بھیڑ، گائے اور گدھی کے دودھ کے ساتھ ساتھ گھی اور دودھ کا پاؤڈر بھی آن لائن فروخت کرتے ہیں

سلیم کا کہنا ہے کہ اگر آپ اسے کہیں دور بھیج رہے ہوں تو اس پر 7ہزار روپے فی لیٹر لاگت آ سکتی ہے کیونکہ یہ جلد خراب ہو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ ممبئی میں ہیں تو یہ دودھ فی لیٹر 5 ہزار روپے میں مل جائے گا۔