ھفتہ 24 اکتوبر 2020

12 سالہ بچے کا وہ کارنامہ جو بڑے سائنسدان بھی نہیں کرپاتے

12 سالہ بچے کا وہ کارنامہ جو بڑے سائنسدان بھی نہیں کرپاتے

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ایک 12 لڑکے نے کچھ ایسا کردکھایا جس نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو اپنا سر پکڑنے پر مجبور کردیا ہے۔

جی ہاں محض 12 سال کی عمر میں ایک امریکی لڑکے جیکس اوسالٹ نے اپنے گھر کے ایک کمرے میں جوہری فیوژن ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی اور اب اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بن گیا ہے۔

امریکا کے شہر ممفس سے تعلق رکھنے والا یہ لڑکا، جس کی عمر اب 15 سال ہے، ایک فعال جوہری ری ایکٹر تیار کرنے والا کم عمر ترین فرد ہے۔

یہ مشین کسٹمائز ویکیومز، پمپس اور چیمبر سے تیار کی گئی جو اس لڑکے نے ای بے سے خریدے اور اس پر کل خرچہ 10 ہزار ڈالرز ہوا۔

اس کی مشین ایٹموں کو اتنی طاقت سے دباتی ہے جس سے توانائی خارج ہوکر اٹیم کے اندر پھنس جاتی ہے۔

اس بچے نے مشین کی تیاری کی تفصیلات انٹرنیٹ سے حاصل کیں اور اپنی 13 سالگرہ سے جنوری 2018 میں جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کرلی۔

اس سے قبل اس طرح جوہری ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کرنے والا کم عمر ترین فرد 14 سال ٹیلر ولسن تھا۔

جیکسن اوسالٹ نے بتایا کہ اس کو بنانے کا آغاز اس وقت ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ کس طرح دیگر افراد نے فیوژن ری ایکٹر بنانے میں کامیابی حاصل کی۔

اس کا کہنا تھا کہ یہ سب جاننے کے بعد ای بے سے پرزے کریدے اور پھر ان کو جوڑ کر اس میں کامیابی حاصل کرلی۔

اس نے کہا 'میں 2 ایٹموں کوو تیز کرکے بجلی استعمال کرنے کے قابل ہوا، جس سے پانی گرم کرنے کے ساتھ ایک اسٹیم انجن چلانے میں کامیاب رہا، جس سے بجلی پیدا ہوئی'۔

اس کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ 2021 کا حصہ بنا ہے اور اس نوعمر سائنسدان کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔