ھفتہ 24 اکتوبر 2020

ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پی ٹی اے سے وضاحت طلب

ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق پی ٹی اے سے وضاحت طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) سے ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پابندی سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔

دھرتی نیوز کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدرشہزادہ ذوالفقار، پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے نائب چیئرمین عابد ساقی، صحافی مظہر عباس اور سابق وزیراطلاعات جاوید جبار کو مذکورہ معاملے میں عدالتی معاون مقرر کردیا۔

عدالت نے ان تمام افراد کو خاص طور پر پی ٹی اے کی جانب سے 2016 ایکٹ میں تفویض کردہ اختیارات کے غلط استعمال جو آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے سے متعلق سوال پر معاون مقرر کیا۔

درخواست گزار اشفاق جٹ نے اپنے وکیل اسامہ خاور کے توسط سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایک معروف ایتھیلیٹ ہیں اور انہوں نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 2016 میں ’ورلڈ چیمپئن شپ آف کک باکسنگ ’ بھی جیتی تھی۔

وکیل کے مطابق درخواست گزار پی ٹی اے کی جانب سے لیے گئے اقدامات سے متاثر ہوئے جس کے نتیجے میں ٹک ٹاک پر پابندی لگی۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹک ٹاک شہریوں کو اظہار رائے کا حق استعمال کرنے اور اپنے صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پی ٹی اے کے اقدامات پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، 2016 کے سیکشن 37 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے عوامی اور پی ٹی اے کے کیس سے متعلق 12 ستمبر 2019 کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کے باوجود اتھارٹی اور وفاقی حکومت 2016 کے ایکٹ کے سیکشن 37کے ذیلی سیکشن (2) میں دی گئی متعلقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور سب سیکشن (1) میں دیے گئے اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ستمبر 2018 میں عوامی وطن پارٹی کی درخواست مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ پی ٹی اے قانون سازی کے بغیر کسی ویب سائٹ کو بلاک نہیں کرسکتا۔

عدالت نے 3 ماہ میں قوانین بنانے اور نوٹیفائی کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم بھی دیا تھا کہ پی ٹی اے کو (پیکا کے) سیکشن 37 کے تحت کوئی حکم جاری کرنے یا اقدام اٹھانے کا اختیار نہیں ہے۔

وکیل نے زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19-اے میں اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک ایپ بہت سارے باصلاحیت شہریوں، خاص طور پر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو آمدن کا ذریعہ فراہم کرتی اور چند لوگوں کی جانب سے پلیٹ فارم کے غلط استعمال پر اس پر پابندی لگانے کا جواز نہیں ہے۔

دلائل سننے کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کی مدد کے لیے ایک اعلی افسر کو نامزد کریں اور وضاحت طلب کی کہ مذکورہ بالا فیصلوں میں اس عدالت کی جانب سے دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کیوں نہیں کی جاسکتی اور ٹک ٹاک ایپ پر پابندی عائد کرنے کا حکم کیوں معطل نہیں ہوسکتا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 9 اکتوبر کو فحش مواد کو نہ ہٹائے جانے پر ٹک ٹاک کو ملک بھر میں بند کردیا تھا۔

ملک بھر میں ٹک ٹاک کو بند کیے جانے پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا تھا، تاہم زیادہ تر لوگ اس بات پر متفق تھے کہ ٹک ٹاک پر فحش مواد نہیں ہونا چاہیے۔

ٹک ٹاک پر پابندی عائد ہونے کے بعد ملک بھر میں اسے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کے ذریعے ملک بھر میں چلایا جا رہا ہے اور اس عمل کے خلاف بھی لاہور ہائی کورٹ میں ایک شہری نے درخواست دائر کر رکھی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں شہری کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ وی پی این پر بھی ٹک ٹاک کو بند کرنے کا حکم دے۔

چند روز قبل انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اور ٹیلی کام کے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا تھا کہ ‘ٹک ٹاک’ سے جلد ہی پابندی ختم کردی جائے گی۔