ھفتہ 24 اکتوبر 2020

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی |ناصر کاظمی |

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی |ناصر کاظمی |

شاعر: ناصر کاظمی

(شعری مجموعہ:برگِ نے؛سالِ اشاعت،1990 )

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب

ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی

جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ

آنکھوں میں ڈھل گئی تیری صورت کبھی کبھی

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا

گزری ہے مجھ پہ بھی یہ قیامت کبھی کبھی

کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا

یوں بھی گزر گئی شبِ فرقت کبھی کبھی

اے دوست ہم نے ترکِ محبت کے باوجود

محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی