ھفتہ 24 اکتوبر 2020

کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوئوں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے: اپوزیشن کے جلسے سے قبل وزیراعظم کا اہم بیان سامنے آگیا

کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوئوں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے: اپوزیشن کے جلسے سے قبل وزیراعظم کا اہم بیان سامنے آگیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی کبھی سوچتا ہوں ڈاکوئوں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہوجائے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے، زندگی میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور وہی فیصلے آپ کو اوپر لے کر جاتے ہیں، ہم سرمایہ کاری لانے اور کاروبار چلانے کی کوشش کررہے ہیں، اس سلسلے میں ہمارا بڑا اثاثہ سمندر پار پاکستانی ہیں ، وہ سب سے زیادہ محب وطن لوگ ہیں ،جب ہماری حکومت آئی تو افسوس ہوا کہ یہ لوگ پاکستان نہیں آرہے، ملک درست سمت میں جارہا ہے، مشکل فیصلے ہی آپ کوآگے لے جاتے ہیں اور مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

نسٹ میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مقامی سطح پرکارڈیک اسٹنٹ کی تیاری اہم پیش رفت ہے، دنیا میں کم ملک ہیں جو اپنے اسٹنٹ بنارہے ہیں، جو ملک نیوکلیئر ٹیکنالوجی بنا سکے اس کے لیے چیزیں آسانی ہونی چاہئیں تھیں۔ انہوں نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر تھوڑی دیر میں ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی ہے تو زرمبادلہ ختم ہوجاتے ہیں اور جب زرمبادلہ کم ہوں گے تو روپیہ گرے گا جس سے مہنگائی آئے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پام آئل، گھی، تیل اور دالوں سمیت کئی اشیا درآمد کرتے ہیں، اس طرح سے ہی ملک غریب ہوتا ہے، اگر ہم نے ملک کو بہتر کرنا ہے تو ڈالرز کو باہر جانے کے بجائے ملک میں آنا چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب طیب اردوان اقتدار میں آئے تو ترکی کا حال ہمارے جیسا تھا وہاں بھی جمہوریت پنپ نہیں رہی تھی اور انہیں بھی آئی ایم ایف جانا پڑتا تھا لیکن انہوں نے منصوبہ بندی کرکے برآمدات بڑھائیں مگر ہم نے کبھی نہیں سنا کہ برآمدات بڑھانا ہے، 60 کی دہائی میں ہماری برآمدات بڑھ رہی تھیں اور اس وقت ہماری سمت درست تھی لیکن 70 میں ایک کنفیوژ مائنڈ سیٹ اسلامک سوشل ازم کے ساتھ آگیا، بد قسمتی سے نیشنلائزیشن شروع ہوگئی اور آج تک پاکستان اس مائنڈ سیٹ نہیں نکلا۔