ھفتہ 24 اکتوبر 2020

کم عمر خواتین کو دل کے دورے سے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

کم عمر خواتین کو دل کے دورے سے موت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے

دل کا دورہ ایک ایسا مرض ہے جس میں فوری طبی امداد فراہم نہ ملنے پر مریض کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے، ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ50 سال اور اس سے کم عمر کی خواتین کو دل کے دورے میں مردوں سے زیادہ موت کا امکان ہوتا ہے۔

ماہرین کافی عرصے سے دل کا دورہ پڑنے کی وجوہات تلاش کرنے میں لگے ہوئے تھے تاکہ انسان کو دل کے دورے سے قبل ہی آگاہی ہوجائے اور وہ کچھ امداد کرسکے کیونکہ دل کا دورہ دنیا بھر میں اچانک موت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

تحقیقاتی ماہرین کے مطابق خواتین اور مردوں میں دل کا دورہ پڑنے کی علامات مختلف ہوسکتی ہیں،11سال کے عرصے پر محیط اس تحقیق کے دوران سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ اسپتالوں میں ہونے والی اموات یا دل کی بیماری سے مرد اور خواتین میں شرح اموات تقریباً یکساں تھی، لیکن اسی مدت کے دوران دیگر وجوہات سے مرنے کا خطرہ خواتین میں 1.6گنا بڑھ گیا۔

تمباکو نوشی شروع کرنے والی خواتین میں مردوں کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمباکو نوشی، ذیابیطس، ذہنی دباؤ اور نفسیاتی خطرے کے عوامل مردوں کے مقابلے میں خواتین پر زیادہ منفی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ خواتین میں یہ خطرہ ایسٹروجن ہارمون کے حفاظتی فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔


امریکہ کے ہارورڈ میڈیکل اسکول سے وابستہ اور اس تحقیق کی قیادت کرنے والے مصنف پروفیسر رون بلینک اسٹائن نے کہا یہ بات اہم ہے کہ 50 سال سے کم عمر افراد میں مرد سب سے زیادہ دل کے دوروں کا سامنا کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں صرف19فیصد خواتین شامل تھیں تاہم ایسی خواتین جن کو کم عمر میں دل کا دورہ پڑا ہو اور جن میں مردوں جیسی علامات ظاہر ہوں، ان میں ذیابیطس ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، وہ معاشی اور سماجی مسائل میں گھر جاتی ہیں اور بالآخر ان کی موت کا زیادہ امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

بدھ کو ’یورپین ہارٹ جرنل‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم نے ان 404 خواتین اور 1693 مردوں کا جائزہ لیا جنہیں 2000 سے 2016 کے درمیان دل کا پہلا دورہ پڑا تھا اور ان کا علاج بوسٹن کے برگھیم ویمن ہسپتال اور میساچوسٹس جنرل ہسپتال میں ہوا تھا۔

انہیں معلوم ہوا کہ مردوں کے مقابلے میں دل کے دورے کا سامنا کرنے والی خواتین کو اسپتال میں داخل ہونے کے بعد تھیرا پیوٹک انویسو پروسیجرز دینے کا کم امکان ہوتا ہے یا ڈسچارج ہونے کے بعد اسپرین بٹا بلاکرز، اے سی ای اِن ہیبیٹرز اور سٹیٹنز جیسی تھراپی کے ذریعے علاج کی کم ہی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔