ھفتہ 24 اکتوبر 2020

پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 51فیصد کمی

پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 51فیصد کمی

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سالانہ بنیادوں پر 50.7 فیصد کم ہوکر گزشتہ سال 38کروڑ 35لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 18کروڑ 90لاکھ ڈالر ہو گئی۔

مجموعی طور پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں براہ غیرملکی سرمایہ کاری 24فیصد کی کمی واقع ہوئی جبکہ اس کے مقابلے میں مالی سال 21 کے پہلے دو ماہ میں 40فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2021 میہں جولائی تا ستمبر کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 41کروڑ 57لاکھ ڈالر ہو گئی جبکہ گزشتہ مالی سال اسی دورانیے میں یہ سرمایہ کاری 54کروڑ 55لاکھ ڈالر تھی اور اس لحاظ سے 23.8فیصد کمی واقع ہوئی۔

براہ غیرملکی سرمایہ کاری پہلے ہی کم تھی کیونکہ غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم کم تھا جو پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کی کم دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے، رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 40 فیصد بڑھ گئی تھی لیکن جولائی میں یہ تقریباً فلیٹ رہی تھی۔

تاہم ستمبر میں آنے والی رقم اگست میں موصول ہونے والی 11کروڑ 23لاکھ ڈالر سے زیادہ تھی۔

تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ چین سے سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں دگنی رہی، مالی سال 21 کی پہلی سہ ماہی کے دوران ملک کو 10کروڑ 36لاکھ ڈالر موصول ہوئیے جبکہ اس کے مقابلے میں پچھلے مالی سال کی رقم 5کروڑ 54لاکھ ڈالر تھی، چین پچھلے کچھ سالوں میں سب سے بڑا سرمایہ کار رہا ہے۔

تاہم پچھلے مالی سال 20 کی پہلی سہ ماہی میں ناروے سے آنے والی آمدنی نے مجموعی طور پر براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا ہے کیونکہ ملک میں 24کروڑ 80لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ مال سال 21 کی پہلی سہ ماہی میں یہ سرمایہ کاری محض 3کروڑ ڈالر تھی۔

ہانگ کانگ سے کی جانے والی سرمایہ کاری پہلی سہ ماہی کے دوران بڑھ کر3کروڑ 84لاکھ ڈالرز کی ہو گئی جبکہ پچھلے مالی سال کے اسی عرصہ میں یہ صرف 69 لاکھ ڈالرز تھی۔

مالٹا سے ہونے والی سرمایہ کاری دونوں مالی سالوں کی پہلی سہ ماہی کے دوران5کروڑ 56لاکھ ڈالرز رہی۔

پچھلے مالی سال میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2کروڑ 65لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی جو اس سال کم ہو کر ایک کروڑ 89لاکھ ڈالرز رہ گئی جبکہ نیدرلینڈز سے آنے والی سرمایہ کاری بڑھ کر 4کروڑ 90لاکھ ڈالرز ہو گئی جبکہ گزشتہ سال اسی دورانیے میں ایک کروڑ 40لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔

مالی سال 21 کے دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی توجہ کا محور بجلی کا شعبہ تھا جس نے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3کروڑ 23لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 11کروڑ 33لاکھ ڈالرز وصول کیے۔

ایک اور پرکشش شعبہ مالی کاروبار (بینک) تھے جہاں گزشتہ سال 3کروڑ 7لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 10کروڑ 25لاکھ ڈالرز وصول کیے گئے۔

تاہم سرمایہ کاری میں سب سے زیادہ کمی مواصلات کے شعبے میں دیکھنے کو ملا جس میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 30 کروڑ 74لاکھ ڈالرز کی آمدنی کے مقابلہ میں اسسال صرف 3کروڑ 75لاکھ ڈالرز موصول ہوئے، درحقیقت یہ ٹیلی مواصلات کا شعبہ تھا جس کو سب سے بڑا دھچکا لگا کیونکہ اس شعبے کو گزشتہ مالی سال میں 2کروڑ 60لاکھ ڈالرز موصول ہوئے جبکہ پچھلے مالی سال میں 29کروڑ 90لاکھ ڈالرز موصول ہوئے تھے۔

تیل اور گیس کی کھوج میں بھی بہتری آئی ہے کیونکہ پچھلے مالی سال کے 3کروڑ 98لاکھ ڈالرز کے مقابلے میں اس سال 6کروڑ 72لاکھ ڈالرز موصول ہوئے۔