ھفتہ 24 اکتوبر 2020

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو | نظیر اکبر آبادی |

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو | نظیر اکبر آبادی |

شاعر : نظیر اکبرآبادی

(شعری مجموعہ:انتخابِ غزلیات نظیر اکبر آبادی؛مرتبہ،ملک زادہ منظور احمد،سالِ اشاعت،1994 )

جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو

یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو

جدا جو ہم کو کرے اس صنم کے کوچہ سے

الٰہی! راہ میں ایسا کوئی رقیب نہ ہو

علاج کیا کریں حکماء تپِ جدائی کا

سوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو

نظیرؔ   اپنا تو معشوق خوب صورت ہے

جو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو