ھفتہ 24 اکتوبر 2020

دیکھے ہوئے کسی کو بہت دن گزر گئے | نون میم دانش |

دیکھے ہوئے کسی کو بہت دن گزر گئے | نون میم دانش |

دیکھے ہوئے کسی کو بہت دن گزر گئے

اس دل کی بے بسی کو بہت دن گزر گئے

ہر شب چھتوں پہ چاند اُترتا تو ہے مگر

اس گھر میں چاندنی کو بہت دن گزر گئے

کوئی جواز ڈھونڈ غمِ ناشناس کا

بے وجہ بے کلی کو بہت دن گزر گئے

مدت ہوئی ہے ٹوٹ کے رویا نہیں ہوں میں

اس چین کی گھڑی کو بہت دن گزر گئے

وہ جاگتی حویلی بھی ویران ہو گئی

اس نقرئی ہنسی کو بہت دن گزر گئے

جو اعتبارِ زخمِ ہنر نے عطا کیا

دانش وہ شاعری کو بہت دن گزر گئے

شاعر: نون میم دانش

(شعری مجموعہ:بچے، تتلی، پھول؛سالِ اشاعت،1997 )