منگل 27 اکتوبر 2020

رات درپیش تھی مسافرکو | نون میم دانش |

رات درپیش تھی مسافرکو | نون میم دانش |

رات درپیش تھی مسافرکو

نیند کیوں آ گئی مسافر کو

 یاد کے بے کراں سمندر میں

اک لہر لے چلی مسافر کو

یاد آجائیں خواب جیسے لوگ

جانے کب، کس گھڑی مسافر کو

ساتھ لے کر چلی گئی اپنے

اک پری سانولی مسافر کو

ایک وحشت میں لے کے پھرتی تھی

رات بھر چاندنی مسافر کو

دیر تک یاد کرکے روتی رہی

ایک لڑکی کسی مسافر کو

شاعر: نون میم دانش

(شعری مجموعہ:بچے، تتلی، پھول؛سالِ اشاعت،1997 )