ھفتہ 24 اکتوبر 2020

مودی کا یار کون ہے؟سندھ حکومت کھل کر بول پڑی

مودی کا یار کون ہے؟سندھ حکومت کھل کر بول پڑی

حکومت سندھ کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ گوجرانوالہ جلسہ نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں،عمران حکومت کی روانگی ہی اِس کے حق میں بہتر ہے،وفاقی حکومت کےترجمانوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اُن کے لیے پاکستان کا مفاد پہلے ہے یا پھر اُن کی حکومت کا؟مودی کا یار وہ ہےجس نےمودی کےانتخاب پرٹوئٹ کے ذریعے نیک تمناؤں کا اظہار کیاتھا ۔بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ  گجرانوالہ کے کامیاب جلسے پر پنجاب کے غیور عوام مبارکباد کے مستحق ہیں،جلسے میں عوام کے جم غفیر نے یہ ثابت کردیا کہ پوری قوم وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہے اور اس سلیکٹڈ حکومت کی روانگی ہی اس کے حق میں بہتر ہے،کراچی جلسے میں بھی عوام کی تعداد توقعات سے کہیں بڑھ کر ہوگی کیونکہ مسئلہ کسی پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستان بچانے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی پاکستان بچانے کی بات آئی تو عوام نے ثابت کیا کہ پاکستان کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، وفاقی حکومت کے ترجمانوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اُن کے لیے پاکستان کا مفاد پہلے ہے یا پھر وفاقی حکومت کا؟ کیونکہ وہ اکثر وفاقی حکومت کا دفاع کرتے کرتے پاکستان کا مفاد پس پشت ڈال دیتے ہیں،نااہلوں کے لیے دعوی کرنا آسان ہوتا ہے،اسی لیے جب کام کرنے کا وقت آیاتو وفاقی حکومت کے سارے کے سارے دعوے دھرے رہ گئے، کہاں گئیں ایک کروڑ نوکریاں، کہاں گئے و ہ پچاس لاکھ گھر، کہنا آسان ہے جبکہ کرنا بہت مشکل ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ مودی کا یار وہ ہے جس نے مودی کے انتخاب پر ٹوئٹ کے ذریعے نیک تمناؤں کا اظہار کیاتھا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ بھارت کا ہر وہ فیصلہ جس میں پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے کسی قسم کا بغض ہو وہ قابل قبول تودرکنا سننے کے لائق بھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی تمام دفعات میں یہ بات عیاں ہے کہ کسی بھی صوبے میں واقع ہر قسم کے قدرتی وسائل اسی صوبے کی ملکیت ہوتے ہیں جن کی نگہبانی اور فروغ بھی اس صوبے ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم وفاق اگر اس کام میں صوبے کی مدد کرنا چاہے تو وہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کرسکتا ہے، گورنر سندھ کو چاہیے کہ اس معاملے پر کسی قسم کی رائے دینے سے قبل وہ آئین و قانون کو اچھی طرح سے پڑھ لیں تاکہ ان کی بات کو سنجیدگی سے لیا جانے لگے۔