جمعرات 03 دسمبر 2020

بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا آسان نسخہ

بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے کا آسان نسخہ

سرسبز مقامات پر کھیلنا بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ جب بچے گھر سے باہر کسی سرسبز مقام پر کھیلتے ہیں تو ایک ماہ کے اندر ہی ان کا مدافعتی نظام بہتر ہوجاتا ہے۔

محققین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ گھر سے باہر کھیلنے سے بچوں کی جلد اور معدے میں متعدد اقسام کے جراثیم آجاتے ہیں۔

مغربی ممالک میں آٹو امیون امراض کی شرح بڑھ رہی ہے جس میں جسمانی مدافعتی نظام صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔

ان بیماریوں میں دمہ، چنبل، ذیابیطس ٹائپ ون اور دیگر شامل ہیں اور اس کی ایک ممکنہ وجہ صفائی کا بہت زیادہ خیال رکھنا ہے۔

اس کے نتیجے میں بچوں کا سامنا بہت کم جراثیموں سے ہوتا ہے اور ان کا مدافعتی نظام زیادہ مضبوط نہیں ہوتا بلکہ اس کی جانب سے غلطیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ماضی میں تحقیقی رپورٹس میں متعدد اقسام کے جراثیموں سے رابطے اور زیاادہ فعال مدافعتی نظام کے درمیان تعلق موجود ہے، مگر یہ پہلی تحقیق ہے جس میں بتایا گیا کہ بچوں کے ماحول میں تبدیلی اور مضبوط مدافعتی نظام کے درمیان تعلق موجود ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ مدافعتی نظام کی تشکیل کو بہتر بنانا ممکن ہے اور وہ بھی شہروں میں سادہ تبدیلیوں سے۔

فن لینڈ کے نیچرل ریسورسز انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں 2 شہروں کے 75 افراد کو شامل کیا گیا جو ایک ٹرائل کے بہت کم تعداد ہے، مگر محققین کا کہنا تھا کہ جب ہم نے نتائج کا جائزہ لیا تو ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ بہت مضبوط ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری تحققیق سے مدافعتی نظام کی کمزوری سے ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے نئی احتیاطی تدابیر کا راستہ کھل جائے گا۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے ملتی جلتی تجرباتی تحقیقی رپورٹس پر اس وقت کام ہورہا ہے مگر اب تک ان کے نتائج شائع نہیں ہوئے ہیں۔

تحقیقی ٹیم اب یہ جائزہ لے گی کہ ننھے بچوں میں جراثیموں کا تنوع ان میں آٹو امیون امراض کی شرح میں کس حد تک کمی لاسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل سائنس ایڈوائسز میں شائع ہوئے اور اس میں شامل بچوں کی عمریں 3 سے 5 سال کے درمیان تھیں۔

یہ بچے 10 ملتے جلتے ڈے کیئر سینٹرز میں بھیجے گئے تھے جن میں سے 4 میں جنگل جیسا فرش تھا اور پودے لگے ہوئے تھے، جبکہ باقی 6 میں پتھر کا فرش تھا۔

بچوں کو ان مراکز میں اوسطاً روزانہ 90 منٹ تک وقت گزارنے کا موقع ملے اور ان میں پودوں اور مٹی سے کھیلنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

28 دن بعد ٹیسٹوں سے معلوم ہوا کہ قدرتی ماحول والے مراکز میں کھیلنے والے بچوں کی جلد میں جراثیموں کا تنوع دیگر مراکز کے بچوں کے مقابلے میں ایک تہائی حد تک زیادہ تھی جبکہ معدے میں بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

خون کے نمونوں سے مدافعتی نظام سے جڑے پروٹینز اور خلیات میں فائدہ مند تبدیلیوں کا علم ہوا۔

محققین کی جانب سے سب بچوں کو روزانہ ایک جیسا کھانا دیا گیا تھا اور دریافت کیا کہ قدرتی ماحول مدافعتی نظام پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ محققین اب یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ ایسے مقامات جہاں سرسبز مقامات نہ ہوں وہاں گھر سے باہر کھیلنے سے بچوں کا مدافعتی نظام کس حد تک بہتر ہوسکتا ہے۔