جمعرات 03 دسمبر 2020

امریکی و روسی خلاباز 196 دن بعد بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن سے زمین پر واپس آگئے

امریکی و روسی خلاباز 196 دن بعد بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن سے زمین پر واپس آگئے

نیویارک (دھرتی نیوز انٹرنیشنل ڈیسک) ایک امریکی اور 2 روسی خلابازوں پر مشتمل ٹیم بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر 196 دن کا مشن مکمل کرکے بحفاظت زمین پر واپس آگئی۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے واپس آنے والے عملے میں ایک امریکی اور دو روسی خلابازشامل ہیں جنہوں نے آج صبح قازقستان میں بحفاظت لینڈ کیا۔

خلابازوں کی واپسی روسی ساختہ ’سویوز ایم ایس 16 کیپسول‘ کے ذریعے ہوئی ہے۔خلابازوں کو زمین پر اترنے کے فوری بعد طبی معائنے کیلئے میڈیکل کیمپ میں لے جایا گیا جہاں سے ان کا ان کے آبائی علاقوں ماسکو اور ہیوسٹن کا سفر شروع ہوگا۔

یہ تینوں خلانورد رواں برس اپریل میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ ہوئے تھے جب دنیا کی تقریباً آدھی آبادی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاو¿ن میں تھی۔کورونا وبا کی وجہ سے ان خلابازوں کی واپسی پر ان کے دوست اور اہل خانہ موقع پر موجود نہیں تھے۔

اس سے قبل رواں برس مئی میں ایک دہائی بعد پہلی بار امریکی سرزمین سے 2 خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کیلئے روانہ ہوئے تھے اور اگست میں ان کی واپسی ہوئی تھی۔ یہ مشن امریکی خلائی ادارے ناسا اور امریکا کی نجی اسپیس کمپنی ’اسپیس ایکس‘ کا مشترکہ مشن تھا جس کا مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک کمرشل پروازوں کو یقینی بنانا ہے۔

ناسا اور اسپیس ایکس کے اس کامیاب مشن کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ اس دوڑ میں مزید ممالک بھی شریک ہوسکتے ہیں تاہم بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک جانے اور وہاں سے واپس آنے میں اب بھی روس کو دنیا کے تمام ممالک پر برتری حاصل ہے۔

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگست میں اسپیس ایکس کے خلائی شٹل کے ذریعے واپس آنے والے دونوں امریکی خلابازوں کو گھر واپس جانے سے قبل 2 دن تک ٹرانزٹ (خلا سے زمین پر واپسی کے بعد ماحول سے ہم آہنگی کیلئے درکار وقت) میں رہنا پڑا تھا جبکہ آج روسی ساختہ کیپسول کے ذریعے زمین پر آنے والے تینوں خلانوردوں کو محض تین گھنٹے ٹرانزٹ میں رہنا پڑا۔

اس کے علاہ قازقستان کے علاقے بایکونور میں روسی خلائی اڈے سے محض تین گھنٹے اور تین منٹ میں گزشتہ ہفتے 3 رکنی خلائی ٹیم کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچایا گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن امریکا اور روس کے درمیان کسی بھی شعبے میں تعاون کی بہترین مثال ہے جو کہ بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

گزشتہ دنوں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں آکسیجن سپلائی کرنے والی مشین، بیت الخلاءاور کھانا تیار کرنے کیلئے استعمال ہونے والے اوون میں خرابی آگئی ہے تاہم روسی خلائی ایجنسی ’روسکوسموس‘ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہاں موجود عملے نے خرابی مکمل طور پر درست کرلی ہے۔

خیال رہے کہ آئندہ ماہ زمین کے مدار میں چکر کاٹتی خلائی تجربہ گاہ یعنی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے 20 برس مکمل ہوجائیں گے اور امکان ہے کہ اسے مزید ایک دہائی بعد بند کردیا جائے کیوں کہ اس میں اب ساختیاتی خرابیاں پیدا ہونا شروع ہوگئی ہیں۔