جمعرات 03 دسمبر 2020

لاہور میں اسموگ کی صورتحال دن بدن بگڑنے کا انکشاف

لاہور میں اسموگ کی صورتحال دن بدن بگڑنے کا انکشاف

لاہور (دھرتی نیوز) پڑوسی ملک کے مضافاتی علاقوں اور دیہی علاقوں میں درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ کے ساتھ اسموگ میں وسیع پیمانے پر اضافے کی پیش گوئی کے دوران سٹی کا فضائی معیار کا انڈیکس غیر صحت بخش نظر آیا ہے۔

دھرتی نیوزکی رپورٹ کے مطابق محکمہ ماحولیات کے ایک سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا ٹاؤن ہال کی اے کیو آئی کا درجہ 207 ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ ایک اعتدال پسند ہے لیکن اگر اس کی تعداد 300 ہو جائے تو یہ غیر اطمینان بخش ہوگا۔

رات 9بجے آئی کیو ایئر کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق شہر میں کئی مقامات پر اے آئی کیو انتہائی بدترین رہا، ان میں ایچ اے سی ایگری پوائنٹ پر لیا گیا 404 بھی شامل ہ جس کے بعد 367 (سندر انڈسٹریل اسٹیٹ)، 267 (ایمپریس روڈ) اور 259 (یتیم خانہ) شامل ہیں، اسی طرح مختلف دیگر مقامات پر بھی شہر کی اے کیو آئی کو 244 ، 211، 210 ، 206 ، 198 اور 192 دکھایا گیا۔

عہدیدار اس صورتحال کو زیادہ پریشان کن نہیں سمجھ رہے لیکن انہوں اس نے پیش گوئی کی ہے کہ نواحی علاقوں میں مزید مڈھ جلنے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہوگا کیونکہ کاشتکار چاول کی فصل کی کٹائی میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا تھا اگلے 15 دنوں میں (10 نومبر تک) علاقوں اور پڑوسی ملک میں اینٹوں کے بھٹوں کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بھونس جلنے کی وجہ سے یہ بہت بڑھ جائے گا لہٰذا اسموگ کی صورتحال 10 نومبر تک اپنے عروج کو پہنچ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ نے اسموگ کو کم کرنے کی کوشش میں 7 نومبر سے 31 دسمبر تک پنجاب میں 7،523 اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، مزید برآں اینٹوں کے بھٹوں کو روایتی طریقے کے بجائے زگ زیگ ٹیکنالوجی میں منتقل کرنا باقی ہے، انہیں 31 دسمبر کے بعد کام کرنے کی اجازت نہیں ہو گی.

پنجاب میں 7ہزار 532 اینٹوں کے بھٹوں میں سے 695 کو زگ زیگ ٹیکنالوجی میں منتقل کیا گیا ہے، اس سال 20 جنوری کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن پہلے ہی dy دی گئی تھی لہIذا 31 دسمبر کے بعد صرف ان بھٹوں کو ہی چلانے کی اجازت ہوگی جو اس طرز پر منتقل کردیے جائیں گے۔