جمعرات 21 جنوری 2021

منفرد سفر کی تلاش

منفرد سفر کی تلاش

دنیا میں کامیاب لوگ کون ہیں اور کامیابی ہے کیا؟ کامیابی اور ناکامی میں کیا فرق ہے؟ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنی زندگی میں کس موڑ پہ کھڑے ہیں۔ میں نے مختلف لوگوں سے پوچھا کہ کامیابی کیا ہے تو ہر ایک نے اپنے خیالات کا اظہار کیا جیسا کہ اگر ہم اپنی ذاتی زندگی میں مطمئن ہیں تو کامیاب ہیں۔ کسی نے کہا اگر شہرت یا دولت مل جائے تو یہ بھی کامیابی ہے لیکن میں کسی سے مطمئن نہیں ہوئی اس کی وجہ یہ تھی کہ مجھے کامیاب لوگوں کی کہانیاں بہت بور لگتی ہیں یہ چند کامیاب حضرات دوسروں کو بیوقوف ثابت کر کے خود کو نمایاں کر لیتے ہیں۔ بظاہر یہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں محنتی ہوتے ہیں۔ کامیاب لوگوں کی کہانیوں کو بازار میں مرچ مصالحہ لگا کر بیچنا بہت آسان ہے آپ مارکیٹ چلیں جائیں آپ کو ایسی کوئی کتاب نہیں ملے گی جس کا عنوان ہو “سو ناکام ترین لوگ” “ناکام لوگوں کی کہانی”آپ کو ہر دوسری جگہ پر کامیابی کی کتابیں دیکھنے کو ملیں گی جیسا کہ “کامیابی کے نسخے” “تم کر سکتے ہو” “ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے راز” ننانوے فیصد ان جیسے فارمولوں پر مشتمل ہیں اور میرا اندازہ ہے کہ زیادہ تر لوگ انہی کتابوں کو پڑھ کے ناکامی کے عروج پر پہنچتے ہیں۔

کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ بھوکے مر رہیں ہوں تو کیا کریں؟ ہنر کیسے سیکھیں؟ کسی کے پاس نوکری نہیں ہے تو وہ کیا کرئے؟ کدھر جائے زور صرف محنت پر ہے لیکن محنت کس چیز پر کوئی پتہ نہیں سب ہوامیں تیر چلارہے ہیں .

اگر دیکھا جائے تو ہزاروں کیا لاکھوں لوگ پیسے دے کر ٹرینرز سے کامیابی کے نسخے لینے جاتے ہیں اب ہوتا کیا ہے جو اسپیکر ہے اس کو تو بولنے کے پیسے ملیں گے وہ وہی گھسی پٹی باتیں بتائے گا کچھ فارمولے بتائےگا اور بس انتظامیہ سے پیسہ لیکر جیب گرم کر کے روانہ ہوجاتا ہے .

لیکن میراسوال یہ ہے کہ اگر آپ محاسبہ کریں تو کیا آپ کو وہ ٹرینر کامیابی ہاتھ میں پکڑا کے گیا ہے۔ یا اس نے کوئی تعویذ دیا ہو کہ یہ پانی میں گھول کے پیو تو کامیاب ہو جاؤ گے ایسا ہر گز نہیں اور نہ ایسا ہوتا ہے اگر دیکھا جائے تو آپ نے جو پیسے دے کر سیشن کیا ہے تو آپ نے خود کے ساتھ زیادتی کی ہے خود کو ناکام تسلیم کر لیا ہے جب کوئی انسان کسی کے سامنے اپنی ایک برائی بیان کرے گا تو اگلا اس کو ہزار کے ساتھ ضرب دے کے آپ کی تشہیر کرئے گا۔

دور حاضر میں انسان کاہلی کا شکار ہے ہم چاہتے ہیں دنیا کی ہر آسائش ہمیں میسر ہو لیکن کرنا کچھ نہ پڑےتو ایسا ناممکن ہے۔ یہ کاہلی،سستی ہمیں ناکامی کی طرف گامزن کرتی ہے۔ میں ایک چیز کو مانتی ہوں آپ جتنی محنت کریں گے آپ کو اس کا اتنا ہی اجر ملے گا محنت ہم دس روپے کی کریں لیکن معاوضہ ہزار کا چاہے تو یہ بیوقوفی کے زمرے میں آتا ہے۔

آئن سٹائن کہتا ہے کہ ہمارا ایجوکیشن سسٹم مچھلی کو کہتا ہے درخت پر چڑھو جب کہ مچھلی درخت پر چڑھنے کے لئے بنی ہی نہیں ہے ہمیں محنت کرنے کے لئے بتایا تو جاتا ہے لیکن کس سمت پر کوئی پتا نہیں۔ اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ میں دنیا میں کس لئے آیا ہوں تو ننانوے فیصد جواب ملے گا عبادت کے لئے پوچھا جائے عبادت کونسی تو جواب ملے گا پانچ وقت کی نمازیں ایسا نہیں ہے یہ صرف بنیادی عبادت ہے عبادت کا مفہوم ہے خود کو ڈھونڈو مخلوق کے لئے جینا شروع کر دو اللہ کی رضا کے لئے کام کرنا شروع کر دو یہ عبادت ہے۔

محنت پر میں آپ لوگوں سے اپنی زندگی کے ایک پہر کا واقعہ بیان کرتی ہوں میں سات برس کی تھی تو ننھیال چلی گئی اب مجھے آتا کچھ بھی نہیں آتا یہ کہنا ہر گز غلط نہ ہوگا کہ میرا شمار انتہائی نالائق لوگوں میں ہوتا تھا اب ہوا کچھ یوں کہ ماموں کی بیٹی ہائی لیول کے انگلش میڈیم سکول میں پڑھتی تھی نانو کی خواہش تھی کہ میں بھی ادھر ہی پڑھوں لیکن سکول کے پرنسپل نے کہا اس بچی کا معیار نہیں ہے آپ اسے گورنمنٹ سکول میں داخلہ دلوائیں اس کو تو حروف تہجی بھی نہیں آتے۔ اب نانو بضد تھی جتنی مرضی فیس لو لیکن ہم نے داخلہ اسی سکول میں کروانا ہے تو پرنسپل صاحب نے نانو سے عرض کیا ماں جی موسم گرما کی تعطیلات ہو رہی ہیں آپ اس کو تین سال کا نصاب ازبر کروا دیں ہم اس کے بعد ٹیسٹ لیں گےاگر یہ پاس ہو گئی تو ہم اس کا ایڈمیشن کر لیں گے .

میں محنت پر یقین رکھتی ہوں تب اگر میں محنت نہ کرتی اپنی خواہشات کو نہ مارتی تو آج اس مقام پر نہ پہنچتی میں اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہوں جو علم ریاضیات میں ماسٹرز کر رہی ہوں اور الحمد اللہ حکومت پاکستان کی طرف سے محنت کی بناء پر وظیفہ اور لیپ ٹاپ بھی حاصل کر چکی ہوں .

جب ہم محنت کرتے ہیں تو اس کا صلہ ہمیں ضرور ملتا ہے تب اگر میری نانو ہار مان جاتی یا میں سارا دن محنت نہ کرتی تو آج اس مقام پر بھی نہ ہوتی .

تو پیارے احباب! محنت پر یقین رکھیں اپنے حصے کی محنت ضرور کریں آپ کو اس کا دگنا ملے گا کاہلی سستی چھوڑ دیں دوسروں کے سامنے اپنی برائیوں کی تشہیر کرنے کی بجائے ان کا حل تلاش کریں .

محنت کے ساتھ ساتھ رہبر اور رہنما ہماری زندگی میں ہو تو ہم ہر میدان میں فتح یاب ہو سکتے ہیں اس لئے یہ کامیابی کی کتابیں پڑھنے کی بجائے عملی زندگی میں محنت کا نسخہ اپنائیں اسی لئے مرحوم علامہ محمد اقبال نے کہا ہے .

“محبت مجھے ان جوانوں سے ہے”

“ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند”

(حنا شہزادی)

این آر اوز کی ماں؟
15 گھنٹے پہلے