جمعرات 21 جنوری 2021

سیاست میں فوج کو نہ گھسیٹیں

سیاست میں فوج

وزیر اعظم عمران خان جوشِ خطابت میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا خاص طور پر جب ان کی زبان پر نوازشریف کا نام آتا ہے تو ضبط کے سارے بندھن گویا ٹوٹ جاتے ہیں اب انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ نوازشریف فوج میں بغاوت کرانا چاہتے ہیں پہلے تو یہ کہتے تھے کہ نوازشریف فوج کے ذریعے منتخب حکومت ختم کرانا چاہتے ہیں اب انہوں نے انہیں فوج کے اندر بغاوت کرانے کا الزام بھی دے ڈالا ہے۔ ان کی یہ بات تو صحیح ہے کہ پہلی بار یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ فوج منتخب وزیر اعظم کا ساتھ چھوڑ دے، مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ کوئی ہماری منظم فوج کے اندر بغاوت کرا دے یہ اتنی غیر محتاط بات ہے کہ اس کی تائید کرنا مشکل ہے، خاص طور پر جب وزیر اعظم یہ کہے تو انتہائی غلط تاثر جنم لیتا ہے۔ عالمی سطح پر یہ پیغام جاتا ہے کہ جیسے پاکستان میں فوج کوئی ایسا غیر منظم ادارہ ہے،جس کے اندر کوئی بھی پھوٹ ڈال سکتا ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج میں چین آف کمانڈ اس قدر مضبوط اور منظم ہے کہ اسے توڑنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، مگر جب وزیر اعظم کوئی بات کہہ رہا ہو تو اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لئے پیارے کپتان اگر اپنی سیاسی لڑائی سیاسی انداز میں ہی لڑیں تو ان کی مہربانی ہو گی۔

جتنا ذکر مریم نواز اپنی تقریروں میں اپنے والد نوازشریف کا کرتی ہیں، اتنا ہی ذکر وزیر اعظم اور ان کے وزراء بھی نوازشریف کا کرتے ہیں، پھر فرق کیا ہے؟ اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ نوازشریف آج بھی پاکستانی سیاست کا ایک مضبوط کردار ہیں آپ نوازشریف کو چور، ڈاکو، لٹیرا وغیرہ کہتے رہیں کہ یہ تو اب تکیہ کلام بن گیا ہے، پھر ایسی باتیں تو سیاست میں چلتی ہی رہتی ہیں، لیکن جب اس میں ملک کے سب سے بڑے اور اہم ترین ادارے کے بارے میں کچھ کہا جانے لگے تو معاملات کسی اور طرف چلے جاتے ہیں پہلے ہی پی ڈی ایم نے اپنا سارا بیانیہ اس نکتے پر استوار کر رکھا ہے کہ موجودہ حکومت سلیکٹرز کی وجہ سے قائم ہے۔ آج وہ پیچھے ہٹ جائیں تو حکومت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دوسرے لفظوں میں خود اپوزیشن بالواسطہ طور پر یہ دباؤ بڑھا رہی ہے کہ ریاستی ادارے منتخب حکومت کے خلاف استعمال ہوں۔ ایسے میں وزیر اعظم کا بیانیہ تو یہ ہونا چاہئے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ پوری توجہ ریاست کی حفاظت پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔

لیکن اس کے برعکس جب وہ سیدھا نام لے کر یہ کہتے ہیں کہ نوازشریف فوج میں بغاوت کرانا چاہتے ہیں تو عجیب سا لگتا ہے وزیر اعظم عمران خان شاید ایسی باتیں کرتے ہوئے ان کے مضمرات پر بھی غور نہیں کرتے۔ ویسے تو وہ کئی باتیں ایسی کر جاتے ہیں، جن کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوتے، جیسے انہوں نے حال ہی میں مچھ واقعہ پر دھرنا دے کر تدفین سے پہلے وزیر اعظم کو بلانے کی بابت بلیک میلنگ کی ترکیب استعمال کی اور پورے ملک میں ایک انتثار پیدا ہو گیا۔ تاہم بہت سی باتیں ایک اور طرح کا منفی ردعمل پیدا کرتی ہیں وزیر اعظم کو فوج کا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں، وہ ایک منظم ادارہ ہے اور اپنا دفاع خود کر سکتا ہے، جب وہ بار بار یہ کہتے ہیں کہ فوج میرے ساتھ کھڑی ہے تو ایک طرح سے وہ خود اپوزیشن کو یہ دعوت دے رہے ہوتے ہیں کہ میرے ساتھ ساتھ فوج پر بھی تنقید کریں۔ اگرچہ اپوزیشن فوج کا نام نہیں لیتی مگر سلیکٹرز اور ”لانے والے“ کہہ کر وہ بالواسطہ طور پر ایک قومی ادارے کو سیاسی معاملات میں گھسیٹ رہی ہوتی ہے۔ وزیر اعظم جب فوج کی حمایت کا ذکر کرنا چھوڑ دیں گے تو اپوزیشن بھی اپنا بیانیہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔

پچھلے دو تین برسوں سے بالواسطہ طور پر فوج کا ذکر ہو رہا ہے۔ تاہم اس عرصے میں صرف ایک بار آئی ایس پی آر نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے یہ وضاحتی بیان جاری کیا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس سے کسی مداخلت کی کوئی امید نہ رکھی جائے۔ یہ بھی کہا کہ سیاسی معاملات پر بحث کرنے اور انہیں سلجھانے کا فورم پارلیمینٹ ہے، اور اگر کسی پر کیسز ہیں تو وہ اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس واضح بیانیئے اور وضاحت کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے فوج کا ذکر کرنا بھی معیوب ہونا چاہئے تھا۔ مگر دیکھا یہ گیا کہ پھر بھی دونوں طرف سے فوج کا حوالہ ضرور دیا جاتا ہے۔  اگر وزیر اعظم عمران خان یہ کہیں گے کہ نوازشریف فوج میں بغاوت کرانا چاہتے ہیں تو انہونی اس لئے لگے گی کہ ایک شخص جو فوج ہی کو موردِ الزام ٹھہرا رہا ہے وہ یہ کام کیسے کر سکتا ہے بغاوت کا لفظ تو ویسے بھی مہذب دنیا میں برا سمجھا جاتا ہے اس کے استعمال میں تو حد درجہ احتیاط کرنی چاہئے۔

سیاستدان اگر ادھر اُدھر کی لڑائیاں چھوڑ کر ساری توجہ پارلیمینٹ کو مضبوط کرنے پر صرف کریں تو انہیں یہ کہنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ پاکستان میں جمہوریت آزاد نہیں۔ اپنا حال تو یہ ہے کہ پارلیمینٹ کے ہر اجلاس میں سوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور گالم گلوچ کے اور کچھ نہیں کرتے اور طعنہ ریاستی اداروں کو دیتے ہیں کہ وہ جمہوریت چلنے نہیں دے رہے۔ فیصلے پارلیمینٹ کے اندر ہونے چاہئیں سب نے حال ہی میں دیکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس پر حملہ کیا تو اس کا جواب خود کانگریس نے منظم رہ کر دیا اور اجلاس منعقد کر کے جوبائیڈن کے صدر بننے کی تصدیق کر دی۔ وہاں کسی نے فوج کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس کی مدد مانگی۔

(نسیم شاہد)

این آر اوز کی ماں؟
15 گھنٹے پہلے