جمعرات 21 جنوری 2021

پاکستان میں تھرمامیٹر اچانک مہنگے ہونے کی وجہ کیا ہے؟

پاکستان میں مہنگائی کی شرح زیادہ ہونے کا اثر تمام ضروری اشیا پر ہوتا ہے لیکن کچھ ایسی بھی اشیا ہیں جن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

بخار ماپنے کا آلہ یعنی تھرمامیٹر بھی ان میں سے ایک ہے جس کی قیمت میں گذشتہ دو ماہ میں سو سے ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں میڈیکل ڈیوائسز کی تھوک کی سب سے بڑی مارکیٹ لوہاری کے ایک تاجر عبدالرحمان نے  دھرتی نیوز کو بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ مارکیٹ میں تھرمامیٹر شارٹ ہیں یا ان کی طلب میں کوئی کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ ہر چیز معمول کے مطابق ہے بس ان کی قیمت بڑھ گئی ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ ’ ہم براہ راست امپورٹر نہیں ہیں ہم نے مال کراچی سے اٹھانا ہوتا ہے۔ تو جو بھی نیا ریٹ نکلتا ہے ہم وہی ادا کرتے ہیں۔ صرف تھرمامیٹر ہی نہیں سرجیکل گلوز اور کئی میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ اضافہ تھرما میٹرز کی قیمتوں میں ہوا ہے۔‘
عبدالرحمان کے بقول ’ہم اس بارے میں کچھ نہیں جانتے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

آج کل مارکیٹ میں ڈیجیٹل تھرمامیٹر بھی بہت زیادہ آرہے ہیں لیکن پارے والے تھرمامیٹرز کی طلب بھی کم نہیں ہوئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’آج سے دو ماہ پہلے بارہ تھرمامیٹرز کا جو باکس 600 روپے میں بکتا تھا اب 1300 سے 1500 روپے کا مل رہا ہے۔

یعنی ایک تھرمامیٹر جو پچاس روپے کا تھا اب اس کی قیمت سو سے ڈیڑھ سو روپے کے درمیان چلی گئی ہے۔‘
کراچی کے ایک تاجر عدنان نذیر جو میڈیکل آلات کی درآمد کے کاروبار سے منسلک ہیں، نے بھی اس سے ملتی جلتی صورت حال کا تذکرہ کیا۔