جمعرات 21 جنوری 2021

’اہلکاروں نے جان کر اسامہ کو قتل کیا پھر جرم چھپانے کی کوشش کی‘

قتل

اسلام آباد کی سری نگر ہائی وے پر انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کی کار پر فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے طالب علم اسامہ ندیم ستی کے قتل کی جوڈیشل انکوائری میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے طالب علم کو جان بوجھ کر طاقت کا بے دریغ استعمال کر کے قتل کیا اور پھر اپنا جرم چھپانے کے لیے سینئرز کی مدد سے دانستہ کوششیں کی۔

دھرتی نیوز کے پاس دستیاب انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چار سے زائد پولیس اہلکاروں نے ہرطرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس وقت نہتے طالب علم کو دانستہ قتل کیا جب وہ گاڑی روک چکا تھا اور واقعے کے بعد پولیس کنٹرول نے 1122 کو غلط ایڈریس بتایا اور اپنے سینئرز کو بھی اندھیرے میں رکھ کر واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

یکم جنوری کو قتل ہونے والے بائیس سالہ طالب علم کے قتل اور ورثا کے شدید احتجاج کے بعد چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا تھا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل رانا وقاص کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔ یاد رہے کہ مقتول پی ٹی آئی کا رکن تھا اور وزیراعظم عمران خان سمیت متعدد وزرا نے مقتول کے والد سے ملاقات کرکے ان سے تعزیت کی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے دوران پولیس اہلکاروں نے بندوق کی طاقت کے نشے میں گولی چلانے میں زرا بھر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔انکوائری کے نتیجے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف دھشت گردی ایکٹ کے تحت کاروائی کرنے اور سلام آباد پولیس کے تین ایس پیز ، ایک ڈی ایس پی اور دو تھانوں کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے پاس ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے نہ تو کوئی ایس او پیز اور نہ ہی نگرانی کا کوئی نظام موجود ہے۔ انکوائری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سینئر افسران نے بھی وقوعہ کے وقت مداخلت کر کے انسداد دہشت گردی فورس کے اہلکاروں کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ واقعے کے فورا بعد ڈیوٹی افسران نے کوشش کی کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو تحٖفظ دیں اور ان کے جرم کو مخفی رکھیں۔
اس لیے سفارش کی جاتی ہے کہ ان افسران کو ڈیوٹی سے ہٹایا جائے تاکہ تحقیقات شفاف طریقے سے ہو سکیں ۔ ان افسران میں ایس پی انسداد دھشت گردی فورس، ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی آئی نائن کے علاوہ ڈی ایس پی (رمنا) ایس ایچ او (رمنا) ایس ایچ او (کراچی کمپنی) ڈیوٹی افسر رمنا اور دیگر افسران شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعہ پولیس میں ایس اوپیز کی عدم موجودگی کی وجہ سے پیش آیا۔ آئی جی آٖفس کو اس حوالے سے ایس او پیز جاری کرنا چاہیے اور اہلکاروں کی تربیت کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال کو صرف ایس او پیز کے مطابق ہی نمٹا جانا چاہیے۔
پولیس کے اندر بھی اندروونی مانیٹرنگ کے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
انسداد دہشت گردی فورس اور آپریشن ونگ کو باقاعدگی سے تربیت اور نفسیاتی مشاورت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ طاقت کے استعمال کے حوالے سے حساس ہو سکیں۔عوام میں پولیس کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مہم چلانے کی ضرورت ہے۔عوام میں اس آگاہی کی ضرورت ہے کہ جب انہیں پولیس کی جانب سے روکا جائے تو وہ رک جائیں۔ انکوائری میں بتایا گیا ہے کہ پولیس میں مانیٹرنگ کا نظام بہت کمزور ہے۔ متعلقہ ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو اس حوالے سے ضرور پوچھا جائے کہ انہوں نے صورتحال پر قابو کیوں نہیں پایا اور ان کے خلاف اس حوالے سے کاروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

انکوائری میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا اس کیس کو دھشت گردی ایکٹ کے تحت چلایا جائے۔
انکوائری کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ اسامہ ستی کو ایک اہلکار نے قتل نہیں کیا بلکہ کم از کم چار اہلکاروں نے مختلف سمتوں سے فائرنگ کھولی اور اس پر بائیس فائر کیے گئے۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ پولیس اہلکاروں کی طرف سے فائرنگ کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر کی گئی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اے ٹی ایس اہلکار نے بخوشی فائر کھولے اور غیر مسلح طالب علم کو اردتا قتل کیا ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسامہ ستی کی طرف سے گاڑی روکنے کے باجود جان بوجھ کر اسے فائرنگ کا نشانہ بنانا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک مجرمانہ غفلت ہے ایسے اہلکاروں کی جانب سے جنہیں اس طرح کی صورتحال کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ یہ بات بھی انکوائری میں سامنے آئی کہ غیر مسلح شہر پر فائرنگ کھولنا ایک سوچا سمجھا عمل تھا جس کا واضح مقصد طالب علم کو قتل کرنا تھا اور یہ بات اہلکاروں اور ان کے سینئرز کے بعد کے رویے سے بھی ثابت ہو گئی ہے۔

اہلکاروں کے بیانات کے برعکس جائے وقعہ سے گولیوں کے اٹھارہ خالی خول برآمد ہوئے اور حیرت انگیز طور پر یہ خول بہتر گھنٹے بعد پانچ جنوری کوفرانزک کے لیے بھیجے گئے جس سے ثابت ہوا کہ پولیس کے انویسٹی گیشن افسران بھی واقعہ کے زمہ دار ساتھیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انکوائری کے مطابق واقعے کے بعد پولیس افسران نے شواہد چھپانے کی کوشش کی اس کا مطلب ہے وہ بھی ملوث اہلکاروں کے جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسامہ کے قتل کو چار گھنٹے فیملی سے چھپا کر موقع پر موجود افسران نے وقوعہ چھپانے کی کوشش کی اور مقتول کو ریسکو کرنے والی گاڑی کو غلط لوکیشن بتائی جاتی رہی۔یہ بھی سامنے آیا ہے کہ موقع پر موجود افسر نے جائے وقوعہ کی کوئی تصویر نہیں لی اور نہ ہی کوئی ویڈیو بنائی۔اسامہ ستّی کا کسی ڈکیتی یا جرم سے کوئی واسطہ ثابت نہیں ہوا۔