اتوار 17 جنوری 2021

ایلون مسک سے ٹوئٹر کے مقابلے میں سوشل نیٹ ورک تشکیل دینے کا مطالبہ

ایلون مسک

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا و اسپیس ایک کے بانی ایلون مسک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم کرے جو ‘ٹوئٹر کو پیچھے چھوڑ’ کر امریکا میں اظہار رائے کی آزادی کو تحفظ فراہم کرے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے نے یہ ایلون مسک سے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب ان کے والد کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاؤنٹس کوو کیپیٹل ہل میں ہنگامہ آرائی کے بعد ہمیشہ کے لیے بین کردیا گیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ٹوئٹر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘معتصب’ اور ‘یکطرفہ سنسر شپ’ کا پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے ٹیسلا کے بانی کو ایک مخالف سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ تشکیل دینے کی دعوت دی، جو غیر جانبدار ہو۔

انہوں نے کہا ‘ہم کچھ ایسا چاہتے ہیں جس سے یکطرفہ سنسر شپ کی روک تھام ہو جو اس وقت کی جارہی ہے اور ایک فرد کو ہدف بنایا جارہا ہے، آخر ایلون مسک ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم کیوں نہیں کرتے؟’

انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ‘ایلون مسک لوگوں کو خلااف میں بھیج رہے ہیں، وہ تنہا ایسا کررہے ہیں اور حکومتوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقے، سستے اور تیزی سے ایسسا کررہے ہیں۔ یہی وہ شخص ہے جو ایسا کرسکتا ہے’۔

ٹرمپ جونیئر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ایلون مسک ہی وہ شخص ہیں جو ٹوئٹر کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں، کیونکہ اس وقت ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں ایمیزون، ایپل اور گوگل نے دائیں بازو کے سوشل میڈیا نیٹ ورک پارلر کو بلیک لسٹ کردیا گیا تھا۔

ٹوئٹر اور فیس بک کی جانب سے امریکی صدر کے اکاؤنٹس کو ہمیشہ کے لیے 8 جنوری کو اس وقت بین کیا گیا تھا جب واشنگٹن میں کیپیٹل ہل میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ آرائی کی، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 5 افراد ہلاک ہوگئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ‘ان کے جیسا شخص ہی کچھ ایسا بہترین سامنے لاسکتا ہے جو ٹوئٹر کو دور بھگادے’۔

انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ نیا پلیٹ فارم نفرت انگیز مواد یا تشدد کو ریگولیٹ کرسکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسا غیرجانبدار پلیٹ فارم بھی ہو، جو بائیں بازو کا ادارہ نہ بن جائے، ایسا پلیٹ فارم جہاں قدامت پسند خیالات کو جگہ مل سکے۔

امریکی صدر کے بیٹے نے کہا ‘میں قدامت پسندانہ ایکو چیمبر نہیں چاہتا، میں ایسا پلیٹ فارم چاہتا ہوں، جو ہمیں یہ نہ بتائے کہ مجھے کیا کہنا یا سننا چاہیے’۔

انہوں نے مزید کہا ‘ایلون آپ ایسا کیوں نہیں کرتے، اس حوالے سے ایک خیال ساتھ آگے آئیں، میرے خیال میں یہی وہ شخص ہے جو امریکا میں اظہار رائے کی آزادی کو بچاسکتا ہے’۔