پاکستان

مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال: 6 ماہ میں دوسری بار سلامتی کونسل کا اجلاس

مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہو گا۔

گزشتہ 6 ماہ کے دوران دوسری مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اگست میں تقریباً 50 برس بعد مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے اگست میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے سابق وزرائے اعلیٰ اور سری نگر کے میئر سمیت مقامی سیاسی قیادت کو گرفتار کر لیا تھا اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے گرفتار افراد کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

پاکستان کی جانب سے بھی بھارتی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی سرکار سے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

گزشتہ برس دسمبر میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ایک خط بھی لکھا گیا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اقوام متحدہ سے اپنی قراردادوں پر عمل کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے ایل او سی پر کسی بھی قسم کی جارحیت پر بھارت کو منہ توڑ اور بھرپور جواب دینے کی تنبیبہ بھی کی اور بھارت کی جانب سے ایل او سی پر میزائل تنصیبات پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی نیویارک پہنچ رہے ہیں جہاں وہ یو این سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تیجانی محمد بندے سے بھی ملاقات کریں گے۔

مزید دیکھیں

اس سے متعلق مزید

Leave a Reply

avatar
  سبسکرائب  
نوٹیفیکیشن
Back to top button
Close
Close