ھفتہ 22 جنوری 2022

سپریم کورٹ نے جسٹس عیسیٰ نظرثانی کیس میں بینچ تشکیل کے معاملے پر فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس میں بینچ کی تشکیل کے معاملہ پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ کے 6 رکنی بینچ نے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی دراخواستوں پر بینچ کی تشکیل کا فیصلہ 5 ایک کی اکثریت سے سنایا، جسٹس منظور احمد ملک نے اس پر اختلاف کیا۔

بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین شامل تھے۔

واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں بینچ نے 10 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے مختصر طور پر آج سناتے ہوئے عدالت نے درخواستیں نمٹا دیں اور معاملہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو بھیج دیا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بینچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ چیف جسٹس چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بھی بنا سکتے ہیں، عام طور پر فیصلہ دینے والا بینچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے، نظرثانی بینچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ فیصلہ تحریر کرنے والا جج دستیاب نہ ہو تو حکم نامے سے اتفاق کرنے والا جج بینچ کا حصہ ہوتا ہے۔

مذکورہ معاملے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کیس کی درخواستوں پر 10 رکنی فل کورٹ نے سماعت کی تھی اور 19 جون 2020 کو 7 ججز کے اکثریتی فیصلے سے ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا جبکہ 3 ججز نے اس پر اختلافی نوٹ لکھا تھا۔

جس 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس عیسیٰ کیس کی سماعت کی تھی اس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کی تھی جبکہ دیگر اراکین میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم خان، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس قاضی امین احمد شامل تھے۔

تاہم جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے بعد عدالتی فیصلے پر دائر نظرثانی درخواستوں پر سماعت کے لیے 6 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں اختلافی نوٹ لکھنے والے ججز شامل نہیں تھے جبکہ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ کیس میں ان تینوں ججز کو بھی شامل کیا جائے اور لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ 19 جون کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے 7 ججز کے اپنے اکثریتی مختصر حکم میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ میں سے انہیں7 اراکین نے مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔

تاہم عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔

یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھیں۔

اپنی نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا تھا کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیر ضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ اور ’ایرر‘ ہوا ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسے حذف کیا جائے۔

بعد ازاں اس کیس کا 23 اکتوبر کو تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا جو 174 صفحات پر مشتمل تھا، جس میں سپرم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔

تفصیلی فیصلے کے بعد اکتوبر میں سپریم کورٹ کو 4 ترمیم شدہ درخواستیں موصول ہوئی تھی جن میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق اکثریتی فیصلے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

10 نومبر کو سرینا عیسیٰ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار کے ساتھ درخواست جمع کروانے کے لیے پیش ہوئی تھی اور انہوں نے درخواست کی تھی کہ ان تمام ججز کو 10 رکنی فل کورٹ میں شامل کیا جائے جنہوں نے صدارتی ریفرنس کے خلاف ان کے شوہر (جسٹس عیسیٰ) کی درخواست پر فیصلہ کیا تھا اور 19 جون کا مختصر حکم جاری کیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ دسمبر کے اوائل میں سرینا عیسیٰ نے عدالت میں ایک درخواست جمع کروائی تھی جس میں انہوں نے پہلے والی نظرثانی درخواست کو منظور کرنے کیا استدعا سمیت زور دیا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کیس میں 7 ججز کے 19 جون کے مختصر حکم سمیت 23 اکتوبر کے تفصیلی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔

علاوہ ازیں 5 دسمبر کو جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اضافی درخواست داخل کی تھی اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی۔

ساتھ ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظر ثانی درخواست میں استدعا کی تھی کہ سماعت ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔

Facebook Comments