بدہ 23 ستمبر 2020

لندن، چانسلر ساجد جاوید نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

لندن، چانسلر ساجد جاوید نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

لندن: برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے کابینہ میں ردوبدل جاری ہے جس کے بعد چانسلر ساجد جاوید نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بڑے پیمانے پر کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تو ان کی کابینہ میں شامل چانسلر ساجد جاوید اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

ساجد جاوید کی جگہ چیف سیکریٹری اور سات ماہ قبل ہی ہاؤسنگ کے جونیئر وزیر بننے والے رشی سُناک کو چانسلر تعینات کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ساجد جاوید نے وزارتی امور میں مداخلت کی وجہ سے استعفیٰ دیا اور کہا ہے کہ ’ان حالات میں مزید کام جاری نہیں رکھ سکتا، ساجد جاوید کو دو ہفتے بعد آئندہ سال کا بجٹ پیش کرنا تھا۔

واضح رہے کہ بورس جانسن نے حالیہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ سمیت متعدد خواتین وزرا کو بھی برطرف کیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر داخلہ ساجد جاوید کو بورس جانسن نے جولائی میں وزیراعظم بننے کے بعد چانسلر مقرر کیا تھا۔

وزیرخزانہ کا عہدہ برطانیہ میں وزیراعظم کے بعد اہم ترین تصور کیا جاتا ہے، ساجد جاوید اس سے قبل تھریسامے کی حکومت میں وزیرداخلہ تھے۔ 49 سالہ ساجد جاوید کے حلف لینے سے قبل سربراہِ خزانہ فلپ ہیمنڈ تھے۔

ساجد جاوید نے وزیرخزانہ کا منصب سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ یہ عہدہ میرے لیے اعزاز ہے، برطانوی وزارت خزانہ میں کام کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔

خیال رہے کہ ساجد جاوید بورس جانسن کے مقابلے میں وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل تھے، تاہم جب وہ اس دوڑ سے باہر ہوئے تو انہوں نے بورس جانسن کی ہی حمایت کی تھی۔