اتوار 06 دسمبر 2020

ترک صدر کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کے لیے ٹھوس پیغام ہے: وزیر خارجہ

ترک صدر کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کے لیے ٹھوس پیغام ہے: وزیر خارجہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ترک صدر کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کے لیے بڑا ٹھوس پیغام ہے، ترک صدر کے مسئلہ کشمیر پر مؤقف کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ترک صدر نے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کیا ہے، ترک صدر کے مسئلہ کشمیر پر مؤقف کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترک صدر کا مسئلہ کشمیر کو اپنا مسئلہ کہنا دنیا کے لیے بڑا ٹھوس پیغام ہے، ترک صدر کے یکجہتی کے پیغام پر کشمیریوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ترکی ٹھوس انداز میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر نے کہا ہمارا ایک تاریخی تعلق ہے، خلافت اور علامہ اقبال کے دور سے لے کر اب تک کا تاریخی تعلق ہے، ترکی کا ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے مؤقف کی تائید کا پیغام بھی بہت اہم ہے، ترک صدر نے کہا کہ تاریخی تعلقات کو اقتصادی پارٹنر شپ میں بدلنا ہے۔ ترکی کے ساتھ اقتصادی پارٹنر شپ پر بات چیت جاری ہے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی اور پاکستان میں تعاون کے لیے شعبوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے، اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لیے ترک صدر کا دورہ اہمیت کا حامل ہے، ترک صدر کے دورے کے دورس نتائج مرتب ہوں گے، ترکی سے مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوالا لمپور میں مہاتیر محمد نے گرم جوشی سے وزیر اعظم کا استقبال کیا، ملائیشیا اور ترکی سے تعلقات میں خلل ڈالنے والوں کو آج منہ کی کھانی پڑی۔ نماز جمعہ کے بعد پاک ترک بزنس فورم کی تقریب ہوگی۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں ہمارے خلاف لابی کھڑی کی ہے۔ ترکی کا ایف اے ٹی ایف پر ہمارے مؤقف کے ساتھ کھڑا ہونا دورے کا اہم مقصد تھا۔