ھفتہ 17 اپریل 2021

مرد عورت کے زیر ِ ناف بال کب کیسے اور کہاں تک کاتنے چا ہییں؟

سب ہی بالغ لوگ زیر ِ ناف بال صاف کر تے ہیں اور یہ صفائی کا اہم حصہ بھی ہے اور اسلام میں ضروری بھی ہے زیرِ ناف بال صاف کر نا ایک ایسا مسئلہ ہے جو عوام کو مکمل طور پر پتہ نہیں ہے جب کہ افسوس کی بات ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اس مسئلے سے نا واقف نظر آ تے ہیں حضرت انس ؓ فر ما تے ہیں کہ مو نچھیں کٹوانے بال کٹوانے اور زیرِ ناف بال صاف کرنے کے بارے میں ہمارے لیے جو مدت مقرر کی گئی ہے کہ ہم ان کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑ یں ہفتے بار زیرِ ناف بال صاف کر نا مستجب عمل ہے او ر مردانہ طاقت کے لیے بھی مفید ہے ورنہ پندرہ دن بعد لازمی صفائی کر نی چاہیے زیر ِ ناف بال صاف کرنے کی مدت کم از کم چالیس دن ہے۔

چالیس دن سے زیادہ تاخیر کر نا گ ن ا ہ ِ مکروہ ہے زیرِ ناف بال صاف کرنے کی جو حدود ہیں وہ ناف کے نیچے اور دائیں بائیں بالوں کے نیچے سیاطین کے نیچے تک کے بالوں کے لیے ہے مرد ہو یا عورت دونوں کے لیے ش ر م گاہ کے بال صاف کر نا ضروری ہے زیرِ ناف بال صاف کرنے کے لیے پاؤڈر کریم کا استعمال بھی کیا جا تا ہے مردوں کے لیے زیرِ ناف بال صاف کر نا اُس ت رے سے اور عورتوں کے لیے بال اکھاڑنا بہتر ہے بال اگر باریک ہوں تو عورت کے لیے بال کو اکھاڑ نا آسان ہے اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک لمبا بال نہیں آ ئیں گے اور اگر اس ترے کا استعمال کر نا چاہیں تو یہ بھی درست ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کرونا وائرس: دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنے والے ہوشیار

لیکن بہتر نہیں ہے اگر بیماری یا موٹاپے کی وجہ سے اس ترے سے صفائی کر نا مشکل ہو تو کریم یا پاؤڈر کا استعمال کر یں اگر یہ بھی نا ممکن ہو تو دوست بھائی بیوی وغیرہ دستانہ اس طرح کی صفائی کر یں کہ شرم گاہ پر نظر نہ پڑے۔ زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی حد یہی ہے کہ صرف اس جگہ کے بال کاٹے جائیں جہاں عموما عورتوں کے بھی بال ہوتے ہیں اس سے تجاوز نہ کریں عورت کا نام اس مسئلہ میں اس وجہ سے لیا جاتا ہے کہ مرد کے تو عموما تمام بدن پر ہی بال ہوتے ہیں۔

جبکہ عورت کے صرف اس مخصوص حصہ پر یا پھر آپ اپنے پیٹ کے نچلے حصہ کو دبا کر دیکھیں تو ایک ہڈی محسوس ہوگی بس جہاں سے اس ہڈی کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے بال کاٹنے کی ابتداء کریں کیونکہ یہی ہڈی عانہ کہلاتی ہے اور اس پر اگنے والے بالوں کو بھی عانہ کہہ دیتے ہیں زیر ناف (عانہ کے) بالوں کو حلق کرنے (مونڈنے) کا حکم ہےاور یہ کام استرے یا سیفٹی سے ہی ہوتا ہے اس مقصد کے لیے استعمال ہونے والی کریمیں، پاؤڈر اور سپرے بالوں کو مونڈتے نہیں بلکہ انہیں کمزور کر کے توڑتے ہیں جبکہ شریعت کا مطلوب انہیں مونڈنا ہے اسی طرح بغلوں کے بالوں کو شریعت نے اکھیڑنے کا حکم دیا ہے. لہذا انہیں کھینچ کر جڑسے اکھیڑا جائےمونڈنے کاٹنے یا توڑنے سے مقصد شریعت پورا نہیں ہوتا۔

Facebook Comments


Dharti News Headlines 6 PM The list of the most powerful countries in the world has been released | Dharti News Twenty percent of Pakistanis own 50 percent of the country’s wealth | Dharti News Dharti News Bulletin 04:30 PM Local and international News – Dharti News Local and International News Bulletin 12 PM Dharti News Headlines 9:00 AM